احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 337
احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک 337 حصہ دوم معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں۔اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اُس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں۔مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔(ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 210-211) تشریعی نبی آپ کے نزدیک وہ ہوتا ہے جو شریعتِ جدیدہ لائے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔یہ خوب یا درکھنا چاہیے کہ نبوت تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل مسدود ہے اور قرآن مجید کے بعد اور کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اسکی پیروی معطل کرے بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے“۔نی تحریر فرماتے ہیں :۔الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 311 حاشیہ) ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید و مولا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے۔اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو بلا شبہ وہ بے دین اور مردود ہے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 340 حاشیہ ) یہ سب عبارتیں اربعین سے بعد کی ہیں ان سے ظاہر ہے کہ آپ پر تشریعی نبوت اور مستقلہ نبوت کے دعویٰ کا الزام سرا سر مردود ہے۔اربعین کی عبارت کو ان حوالہ جات کی روشنی میں پڑھنا چاہیے حضرت مسیح موعود پر شریعت اسلامیہ کے بعض