احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 334
334 حصہ دوم کے حضور سجدہ کر رہا ہے اور جو کوئی زمین میں ہے وہ بھی اور سورج، چاند ،ستارے، پہاڑ، درخت اور چار پائے بھی اور لوگوں میں سے بھی بہت سے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ سجدہ صرف خدا کو کیا جاتا ہے۔اُدھر حضرت یوسف علیہ السلام کی رؤیا ہے کہ سُورج چاند اور گیارہ ستارے مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔تو کیا اس سے ان کی خدائی کا دعوی لا زم آئے گا۔کوئی بے وقوف ہی ایسا خیال کر سکتا ہے۔کیونکہ خواب ہمیشہ تعبیر ہوتے ہیں چنانچہ جب مصر میں حضرت یوسف کے والدین اور گیارہ بھائی آئے اور انہوں نے یوسف کی عظمت کا اظہار کیا تو اس موقع پر حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا :۔هذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّ حَقًّا۔(يوسف: 101) کہ یہ میری اس خواب کی تعبیر ہے جسے میرے رب نے سچا کر دکھایا۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں فرمایا ہے:۔وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَى - (الانفال : 18) کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جنگ بدر میں کنکروں کی جو ٹھی تو نے دشمنوں کی طرف پھینکی تھی وہ تو نے نہیں پھینکی تھی اللہ نے پھینکی تھی۔یہ آیت قرآنیہ تصوف کی جان ہے اور اس میں بظاہر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فعل کو اللہ کا فعل قرار دیا ہے اور بڑا ہی بے وقوف وہ شخص ہوگا جو اس سے یہ نتیجہ نکالے۔کہ اس آیت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائی کا دعویٰ کر دیا۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو