احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 287 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 287

287 حصہ دوم ہے کہ قسم کی طرف تو رجوع نہ کریں اور یونہی حق پوشی کے طور پر جابجا خط بھیجیں اور اخباروں میں چھپوا ئیں کہ میں عیسائی ہوں اور عیسائی تھا۔“ (اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ مورخہ 27 /اکتوبر 1894۔مندرجہ تبلیغ رسالت جلد سوم صفحہ 172 ، 173 - مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 442،441) پھر حضور تحریر فرماتے ہیں: اب بتلاؤ کہ آتھم صاحب کا یکطرفہ بیان جو صرف دعوئی کے طور پر اغراض نفسانیہ سے بھرا ہوا اور روئداد موجودہ کے مخالف ہے کیونکر قبول کیا جائے۔اور کونسی عدالت اس پر اعتماد کر سکتی ہے یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ صرف ہمارے الہام پر مدار نہیں رہا بلکہ آتھم صاحب نے خودموت کے خوف کا اقرار اخباروں میں چھپواد یا اور جا بجا خطوط میں اقرار کیا۔اب یہ بوجھ آتھم صاحب کی گردن پر ہے کہ اپنے اقرار کو بے ثبوت نہ چھوڑیں بلکہ قسم کے طریق سے جو ایک سہل طریق ہے اور جو ہمارے نزدیک قطعی اور یقینی ہے ہمیں مطمئن کر دیں کہ وہ پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرے بلکہ وہ فی الحقیقت ہمیں ایک خونی انسان یقین کرتے اور ہماری تلواروں کی چمک دیکھتے تھے۔اور ہم انہیں کچھ بھی تکلیف نہیں دیتے بلکہ اس قسم پر چار ہزار روپیہ بشرائط اشتہار 9 رستمبر 1894 و 20 ستمبر 1894 ان کی نذر کریں گے۔اس اشتہار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا آخری الہام درج فرمایا:۔” خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ میں بس نہیں کرونگا جب تک اپنے قوی ہاتھ کو نہ دکھلاؤں اور شکست خوردہ گروہ کی سب پر ذلت ظاہر نہ کروں“۔اور اس الہام پر یہ تشریحی نوٹ لکھا:۔اب اگر اہتم صاحب قسم کھا لیں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس