احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 286
احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک 286 حصہ دوم ملازموں حتی کہ گورنر جنرل سے بھی قسم لی جاتی ہے۔پھر آپ نے تحریر فرمایا :۔پھر اب سوچنا چاہیے جب کہ پطرس نے قسم کھائی۔پولس نے قسم۔کھائی مسیحیوں کے خدا نے قسم کھائی۔فرشتوں نے قسم کھائی۔نبیوں نے قسمیں کھائیں اور تمام پادری ذرہ ذرہ مقدمہ پر قسمیں کھاتے ہیں پارلیمنٹ کے ممبر قسم کھاتے ہیں ہر ایک گورنر جنرل قسم کھا کر آتا ہے تو پھر آتھم صاحب ایسے ضروری وقت میں کیوں قسم نہیں کھاتے۔حالانکہ وہ خود اپنے اس اقرار سے کہ میں پیشگوئی کے بعد ضرور موت سے ڈرتا رہا ہوں۔ایسے الزام کے نیچے آگئے ہیں کہ وہ الزام بجر قسم کھانے کے کسی طرح ان کے سر پر سے اُٹھ نہیں سکتا۔کیونکہ ڈرنا جورجوع کی ایک قسم ہے اُن کے اقرار سے ثابت ہوا۔پھر بعد اس کے وہ ثابت نہ کر سکے کہ وہ صرف قتل کئے جانے سے ڈرتے تھے۔نہ انہوں نے حملہ کرتے ہوئے کسی قاتل کو پکڑا۔نہ انہوں نے یہ ثبوت دیا کہ ان سے پہلے کبھی اس عاجز نے چند آدمیوں کا خون کردیا تھا جس کی وجہ سے اُن کے دل میں بھی دھڑکا بیٹھ گیا کہ اسی طرح میں بھی مارا جاؤں گا۔بلکہ اگر کوئی نمونہ ان کی نظر کے سامنے تھا تو بس یہی کہ ایک پیشگوئی موت کی یعنی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی موت ان کے سامنے ظہور میں آئی تھی لہذا جیسا کہ الہام الہی نے بتلایا ضرور وہ پیشگوئی کی عظمت سے ڈرے اور یہ بات روئداد موجودہ سے بالکل برخلاف ہے کہ وہ پیشگوئی کی صداقت تجربہ شدہ سے نہیں ڈرے بلکہ ہمارا خونی ہونا جو ایک تجربہ کی رُو سے ایک تحقیقی امر تھا اس سے ڈر گئے۔پس اس الزام سے وہ بجز اس کے کیونکر بری ہو سکتے ہیں کہ بحیثیت شاہد کے قسم کھا ئیں اور بموجب قول پولس رسول کے جو ہر ایک مقدمہ کی حد قسم ہے۔اس مشتبہ امر کا فیصلہ کر لیں۔لیکن یہ نہایت درجہ کی مکاری اور بددیانتی