احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 268
ندی علیمی پاکٹ بک اعتراض پنجم 268 حصہ دوم نکاح آسمان پر پڑھا جا چکا تھا۔تو تاخیر میں کیسے پڑ گیا؟ الجواب :۔حضرت اقدس کے الفاظ ” نکاح آسمان پر پڑھا گیا الہام زوجنگھا کا یہ مفہوم ظاہر کرنے کے لئے کہے گئے تھے کہ نکاح اس وعیدی پیشگوئی کا ایک حصہ ہے۔اگر سلطان محمد تو بہ کرنے کے بعد کسی وقت تو بہ تو ڑ دے۔تو پھر یہ نکاح پیشگوئی کے لحاظ سے مقدر ہوگا۔اور جب تک تو بہ نہ توڑے پیشگوئی معلق رہے گی۔سلطان محمد کی توبہ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اجتہاداً اسے مبرم سمجھتے رہے۔یعنی یہ امر ہ وہ تو بہ توڑ دے گا۔حالانکہ اس بارہ میں آپ پر کوئی جدید الہام نہیں ہوا تھا۔آخری الہام جو ہو اوہ تکفیک هذِهِ الْاِمْرَءَ ةُ تھا۔کہ یہ عورت جو آپ کے نکاح میں ہے آپ کے لئے کافی ہے۔اس سے یہ قومی احساس پیدا ہو گیا۔کہ نکاح کا وقوع منسوخ ہو گیا ہے۔چونکہ پھر بھی تکذیب اور تو بہ توڑنے کا عقلی امکان اب بھی باقی تھا۔اس لئے آپ نے تتمہ حقیقۃ الوحی میں یہ توجیہ کی کہ نکاح فسخ ہو گیا ہے یا تاخیر میں پڑ گیا۔واقعات نے یہ شہادت دی کہ عنداللہ یہ پیشگوئی مل چکی ہے۔چنانچہ بعد میں اخبار بدر 23 اپریل 1908ء میں آپ نے خود بھی لکھ دیا۔کہ یہ پیشگوئی ٹل گئی ہے۔اور وعیدی پیشگوئی کاٹل جانا آیت يَمْحُوا اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ مطابق ہوا ہے۔ماسوا اس کے زوجنکھا کے الہام کا مفہوم گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ قرار دیا کہ بعد واپسی کے ہم نے اس سے تیرا نکاح کر دیا ( انجام آتھم صفحہ 60) اور یہ نکاح سلطان محمد کی تو بہ کی وجہ سے وقوع میں نہ آیا۔تا ہم ایک دوسری تعبیر سے بھی یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہو چکی ہے کہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام