احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 238
238 حصہ دوم روٹیاں صدقہ میں دے دیں تو موت سے نجات پا گیا۔“ پس صدقہ اور دُعا سے جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔مبرم تقدیر بھی ٹل جاتی ہے۔یہ وہی مبرم تقدیر ہوتی ہے جو دراصل تو معلق ہوتی ہے لیکن مہم اُسے مبرم سمجھتا ہے۔کیونکہ اسے اُس کے معلّق ہونے کے متعلق خدا تعالیٰ کی طرف سے وضاحت نہیں ہوتی۔تعبیر کا دوسرے رنگ میں ظہور ایک اصل پیشگوئیوں کا یہ بھی ہے کہ کبھی ایک بات دکھائی جاتی ہے مگر وہ پوری کسی اور رنگ میں ہوتی ہے۔چنانچہ تاریخ انمیں جلد 2 صفحہ 121 پر لکھا ہے:۔قال اسمعيلي قال اهل التعبيراَنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلّم رأى فى المنام اسيد بن ابي العيص واليا على مكة مسلمًا فمات على الكفر وكانت الرؤيا لولده عتاب أَسْلَمَ۔کہ اسماعیلی نے کہا ہے کہ اہل تعبیر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں اسید بن ابی العیص کو مسلمان ہونے کی حالت میں مکہ کا والی دیکھا۔وہ تو کفر پر مر گیا اور رویا اسکے بیٹے عتاب کے حق میں پوری ہوئی جو مسلمان ہو گیا۔“ پھر بخاری کتاب التعبیر میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔بينا انا نائم البارحةَ إِذْ أُتِيتُ بمفاتيح خزائِنِ الارضِ حَتَّى وُضِعَتْ فِى يَدَيَّ قال ابوهريرة فَذَهَبَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم وانتم تَنتَقِلُونَها - (بخارى كتاب التعبير باب رؤيا الليل) کہ میں سو رہا تھا کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئیں