احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 237
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 237 حصہ دوم صرف خدا تعالیٰ جل شانہ ہی جانتا ہے۔اور لوح محفوظ میں وہ قضائے مبرم کی صورت میں ہوتی ہے۔یہ آخری قسم قضائے معلق کی بھی (جوصورۃ مبرم ہوتی ہے) پہلی قسم کی قضا کی طرح تبدیلی کا احتمال رکھتی ہے“۔ایک واقعہ اس جگہ حضرت مجد دالف ثانی علیہ الرحمۃ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ اور حضرت جبریل علیہ السلام کی پیشگوئی بھی درج کرتے ہیں جس میں ایک شخص کی موت کی خبر دی گئی تھی۔مگر وہ صدقہ دینے کی وجہ سے بچ گیا۔(مکتوبات جلد اوّل صفحہ 232) ایک اور واقعہ تفسیر روح البیان مطبوعہ مصر جلد 1 صفحہ 257 میں آتا ہے:۔إِنَّ قَصَّارًا مَرَّ عَلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مَعَ جَمَاعَةٍ مِّنَ الْحَوَارِيِّينَ فَقَالَ لَهُمْ عِيسَى احْضُرُوا جَنَازَةَ هَذَا الرَّجُلِ وَقْتَ الظُّهْرِ فَلَمْ يَمُتْ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ وَقَالَ أَلَمْ تُخْبِرُنِي بِمَوْتِ هذَا الْقَصَّارِ فَقَالَ نَعَمْ وَلَكِنْ تَصَدَّقَ بَعْدَ ذَلِكَ بِثَلَاثَةِ أَرْغِفَةٍ فَنَجَا مِنَ الْمَوْتِ۔“ کہ ایک دھوبی حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس سے جب ایک حواریوں کی جماعت اُن کے ساتھ تھی گزرا۔حضرت عیسی علیہ السلام نے حواریوں سے کہا کہ اس آدمی کے جنازہ پر ظہر کے وقت حاضر ہو جانا۔وہ نہ مرا تو جبریل نازل ہوا۔حضرت عیسی علیہ السلام نے اُسے کہا کیا تو نے مجھے اس دھوبی کی موت کی خبر نہ دی تھی؟ جبریل نے کہا ہاں۔لیکن اُس نے تین