احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 192 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 192

تعلیمی پاکٹ بک 192 حصہ اوّل بغاوت اور بادشاہ اور مجلس پارلیمنٹ میں اختلاف اور مخالفت شروع ہو گئی اور حالات اتنے بگڑ گئے کہ ایران کے دارالمبعوثین یعنی پارلیمنٹ ہاؤس کا ایک حصہ توپ خانہ سے اڑا دیا گیا اور بادشاہ نے پارلیمنٹ کو موقوف کر دیا۔بادشاہ کے اس فعل سے ملک میں عام بغاوت بڑی شدت سے پھیل گئی اور آخر کار بادشاہ کی خاص باڈی گارڈ فوج بھی جس پر بادشاہ کو بڑا ناز تھا اس کے باغیوں کے ساتھ مل گئی اور اس طرح مرزا محمد علی قا چار شاہ کسری ایران کے ایوان میں ایسا تزلزل پڑا کہ اسے 15 جولائی 1909ء کو اپنے حرم سمیت روسی سفارت خانہ میں پناہ لینی پڑی۔نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنت پھر ہمیشہ کے لئے اس خاندان کے ہاتھ سے نکل گئی اور کسری کا وجود دنیا سے مٹ گیا اور خدا کی مقدس وحی " تزلزل در ایوان کسری فتاد پوری ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خدا کی طرف سے ہونے پر شاہد ناطق ثابت ہوئی۔ساتویں پیشگوئی ------اہل بنگال کی دلجوئی حضرت اقدس کو 11 فروری 1906ء کو الہام ہوا کہ :۔66 پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہوگی۔“ (بدر 16 فروری 1906 ، صفحہ 2۔تذکرہ صفحہ 508 مطبوعہ 2004ء) اس پیشگوئی کی تفصیل یہ ہے کہ اکتوبر 1905ء میں ہندوستان کے وائسرائے لارڈ کرزن نے بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ایک حصہ مشرقی بنگال اور آسام پر مشتمل تھا اور دوسرا حصہ مغربی بنگال جس میں بہار اور اڑیسہ بھی شامل تھے۔ہندوؤں نے اس تقسیم کو اپنے حق میں نقصان دہ سمجھ کر بہت شور مچایا ، جلسے کئے جلوس نکالے ،سرکاری عمارات کو نقصان پہنچایا، ٹرینوں پر بم پھینکے بعض انگریز افسروں کو قتل بھی کیا اور اس تقسیم کی منسوخی کیلئے پوری کوشش میں کوئی دقیقہ