احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 193
تعلیمی پاکٹ بک 193 فروگذاشت نہ کیا مگر گورنمنٹ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔حصہ اول لارڈ کرزن کی مدت ختم ہونے پر اس کی جگہ لارڈ منٹو آئے مگر انہوں نے بھی ہندوؤں کی ایک نہ مانی اور تقسیم قائم رہی اور پختہ سمجھ لی گئی اور جب اس میں ردو بدل کا بظاہر کوئی امکان نہ رہا تب مذکورہ بالا الہام تقسیم کی منسوخی کے متعلق ہوا جسے حضرت اقدس علیہ السلام نے شائع فرما دیا۔لوگوں نے اس پر طرح طرح کے اعتراضات کئے۔مضحکہ اڑایا۔پھبتیاں کسیں کہ جب سارے مراحل طے ہو چکے اور تقسیم اپنی جگہ قائم رہی تو اب اس کے خلاف الہام شائع کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔1910ء میں لارڈ منٹو بھی واپس چلے گئے اور لارڈ ہارڈنگ وائسرائے بن کر آگئے ان کے زمانے میں 1911 ء میں شاہ انگلستان جارج پنجم کی ہندوستان میں رسم تاج پوشی کے انتظامات ہونے لگے تو لا رڈ ہارڈنگ نے از خود ہی ایک تجویز وزیر ہند کو پیش کر دی جس میں لکھا کہ اہل بنگال کی دلجوئی ہونی چاہیے اور بنگال کی تقسیم منسوخ کر دی جائے چنانچہ اس کے مطابق شہنشاہ جارج پنجم جب تاج پوشی کیلئے ہندوستان آئے اور دہلی میں دربار کا انعقاد ہوا جس میں ہندوستان بھر کے امراء ، نواب، رؤسا، عمائد اور والیان ریاست سب جمع تھے بادشاہ نے بذات خود اس تقسیم کی منسوخی کا اعلان کر کے بنگالیوں کی دل جوئی کر دی اور منسوخی کے اعلان میں پیشگوئی کے مطابق یہ الفاظ بھی استعمال کئے کہ یہ تنسیخ محض اہل بنگال کی دلجوئی کے لئے کی گئی ہے اور اس طرح بظاہر انتہائی مخالف حالات میں اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کو پورا فرما کر مضحکہ اڑانے اور استہزاء کرنے والے مخالفوں کو شرمندہ کیا اور اپنے پیارے مسیح کی صداقت ثابت کی۔