احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 190
تعلیمی پاکٹ بک 190 حصہ اوّل حضرت مولوی عبد الحلیم صاحب اور ملانور علی صاحب اسی جرم یعنی احمدیت کی وجہ سے شہید کر دئیے گئے۔ان واقعات کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ پسند نہ کیا کہ ملک افغانستان کی عنانِ حکومت اس خاندان کے ہاتھ میں رہے جس نے پانچ بے گناہ اور معصوم احمدیوں کو شہید کیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس خاندان کو مٹانے کیلئے ایک نہایت ہی معمولی انسان حبیب اللہ المعروف بچہ سقہ کو اس تباہی و بربادی کے لئے کھڑا کر دیا اور اس نے صرف تین سو افراد پر مشتمل جمعیت کے ساتھ امان اللہ کو ایسی خطرناک شکست دی کہ وہ بری طرح ناکام ہو کر افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔اب آہ نادر شاہ کہاں گیا کی پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ جب بچہ ستقہ نے بغاوت کی تو جرنیل نادر خان جو بعض وجوہ مرض وغیرہ کی بنا پر 1923ء میں یورپ چلے گئے تھے افغانستان کی تباہی کو برداشت نہ کر سکے اور مریض ہونے کے باوجود کابل واپس آگئے اور بچہ سقہ کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نے چاہا کہ اہل افغانستان جس کو چاہیں بادشاہ بنالیں مگر انہوں نے آپ ہی کو بادشاہ بنانا منظور کیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کو چونکہ مذکورہ بالا پیشگوئی کا پورا کرنا منظور تھا اس لئے الہی مشیت کے ماتحت ملک کے قدیم دستور کے خلاف انہوں نے یہ اعلان کیا کہ آئندہ کے لئے انہیں نادر خان یا شاہ نادر خان کے نام سے نہ پکارا جائے بلکہ نادرشاہ کہہ کر پکارا جائے۔چنانچہ آپ نادر خان سے نادر شاہ کہلانے لگے۔چونکہ الہی نوشتے پورے ہونے تھے اس لئے نادرشاہ کہلانے کے ٹھیک چار سال کے بعد جبکہ وہ اپنے ملک کے ایک محبوب و مقتدر ہر دلعزیز بادشاہ تسلیم کئے جانے لگے تو 8 نومبر 1933ء کوجبکہ وہ اپنے محل دلکشا میں طالب علموں کو ایک کھیل کے مقابلہ کے نتیجہ میں انعامات تقسیم کر رہے تھے ان پر طالب علموں میں سے ہی