احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 158
لیمی پاکٹ بک 158 حصہ اوّل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس قسم کی نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟ ذیل میں ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چند تحریریں پیش کرتے ہیں جن سے ظاہر ہے کہ آپ کا دعوی نہ تشریعی نبوت کا ہے نہ مستقلہ نبوت کا بلکہ آپ کا صرف یہ دعویٰ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پا کر اور آپ کا ظلت ہو کر آپ ایک پہلو سے نبی ہیں اور ایک پہلو سے امتی۔یا بالفاظ دیگر آپ ظلی نبی ہیں نہ کہ مستقل نبی۔آپ کے نزدیک قرآن مجید آخری شریعت ہے اور تا قیامت اس میں ترمیم و تنسیخ نہیں ہو سکتی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان معنوں میں بھی خاتم النبین ہیں کہ آپ کے فیوض تا قیامت جاری رہیں گے، کبھی منقطع نہیں ہوں گے اور مسیح موعود نے بھی ہر ایک کمال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کی برکت سے ہی پایا ہے۔حوالہ جات: 1۔”میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعوی کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں صرف مُراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے سو مکالمہ ومخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ ومخاطبہ رکھتے ہیں میں اُس کی کثرت کا نام بموجب حکم الہی