احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 159
تعلیمی پاکٹ بک 159 حصہ اوّل 66 نبوت رکھتا ہوں۔وَلِكُلِّ ان يصطلح “ تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 503) 2۔یادر ہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوے میں نبی کا نام سن کر دھو کہ کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اُس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔اس لئے میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی اور میری نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظل ہے نہ کہ اصلی نبوت۔اسی وجہ سے حدیث اور میرے الہام میں جیسا کہ میرا نام نبی رکھا گیا ایسا ہی میرا نام امتی بھی رکھا ہے تا معلوم ہو کہ ہر ایک کمال مجھ کو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کے ذریعہ سے ملا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 154 حاشیہ ) 3 قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رسُونِ سے ظاہر ہے پس مصفی غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا اور آیت أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ گواہی دیتی ہے کہ اس مصفی غیب سے یہ امت محروم نہیں اور مصفی غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت کیلئے محض بروز اور ظلمیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔“ (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 209 حاشیہ)