احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 110
تعلیمی پاکٹ بک 110 حصہ اوّل اس آیت سے ظاہر ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا مستقل نبی نہیں آ سکتا جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت شرط نہ ہو۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی رُو سے جہاں نبیوں کے آنے کے لئے مؤثر وجود قرار دیئے گئے ہیں وہاں آپ کی اطاعت کو شرط قرار دے کر مستقل اور شارع انبیاء کا انقطاع بھی بطور اشارۃ النص بیان کر دیا گیا ہے گویا اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتمیت مرتبی اور خاتمیت زمانی دونوں کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔ہاں نبیوں کے لئے موثر وجود بطور عبارۃ النص اور آخری شارع اور آخری مستقل نبی ہونے کا ثبوت بطور اشارۃ النص بیان کیا گیا ہے۔لفظ مع : لفظ مع عربی زبان میں فِی اور مِنْ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کا مفہوم اگلے گروہ میں شامل کرنا ہوتا ہے چنانچہ امام راغب الاصفہانی اپنی لغت مفردات القرآن میں فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّهِدِینَ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: أَى اجْعَلْنَا فِي زُمْرَتِهِمْ أَيْ إِشَارَةٌ إِلَىٰ قَوْلِهِ أُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ - ترجمه: (مفردات زیر لفظ كَتَبَ) فَاكْتُبْنَا مَعَ الشُّهِدِينَ کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں شاہدین کے زمرہ میں داخل کر دے اور شاھدین کے لفظ میں خدا کے قول او ليك مع الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَيْكَ رَفِيقًا کی طرف اشارہ ہے۔گویا چاروں قسم کے مراتب پانے کا امت میں امکان ہے۔نبی بھی، صدیق بھی ، شہدا ء بھی اور صالحین بھی۔