احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 103 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 103

تعلیمی پاکٹ بک 103 حصہ اول مگر اہلِ فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخیر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔(تحذیرالناس صفحہ 3 مطبوعہ سرکار پریس سہارنپور ) صحیح معنی آپ کے نزدیک یہ ہیں: 66 آنحضرت یہ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سوا آپ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت بالعرض۔اوروں کی نبوت آپ کا فیض ہے پر آپ کی نبوت کسی اور کا فیض نہیں۔آپ پر سلسلہ نبوت مختم ہو جاتا ہے غرض 66 جیسے آپ نبی اللہ ہیں ویسے ہی نبی الانبیاء بھی۔“ تحذیر الناس صفحہ 4 مطبوعہ سر کار پریس سہارنپور ) پھر مولا نا موصوف سیاق آیت اور لغت عربی کوملحوظ رکھتے ہوئے خاتم النبین کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:۔جیسے خـاتـم بـفـتـح النساء کا اثر اور نقش مختوم علیہ میں ہوتا ہے ایسے موصوف بالذات (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کا اثر موصوف بالعرض ( دوسرے تمام انبیاء) میں ہوتا ہے۔حاصل مطلوب آیه کریمه (وَ لكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ) اس صورت میں یہ ہوگا کہ ابوتِ معروفہ (جسمانی باپ ہونا ) تو رسول اللہ صلعم کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں پر ابوتِ معنوی (روحانی باپ ہونا ) امتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت بھی حاصل ہے۔انبیاء کی نسبت تو فقط آیت خاتم النبین شاہد ہے کیونکہ اوصاف معروض (مثلاً دیگر انبیاء کی نبوتیں ) وموصوف بالعرض (مثلاً دیگر انبیاء ) موصوف بالذات (مثلاً خاتم النبین ) کے فرع ہوتے ہیں۔اور موصوف بالذات اوصاف عرضیہ کی اصل ہوتا ہے اور وہ اس کی نسل۔۔۔۔۔۔۔اور امتیوں کی