احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 102
102 حصہ اول تعلیمی پاکٹ بک (جیسے خَتَمَ الزّراعة جبکہ بیج ڈالنے اور پانی دینے پر کھیتی آگ آئے اور کبھی اس کے مجازی معنی آخر کو پہنچنے کے ہوتے ہیں اور انہی معنی میں خَسَمت الْقُرْآنَ کہا گیا ہے کہ میں تلاوت قرآن میں اس کے آخر تک پہنچ گیا۔ما حصل اس کا یہ ہے کہ ختم اور طبع کے پہلے معنی جو تا شیر انشئی اور اثر حاصل میں لغوی مصدری معنی ہیں اور باقی سارے معنی مجازی ہیں جن پر يُتَجَونُ کا لفظ دلالت کرتا ہے۔واضح رہے کہ اثر نقش حاصل بھی حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی معنی ہیں جن کے آگے تَحْصِیلُ اثْرِ عَنْ شَیءٍ کے معنوں کا قیاس کیا گیا ہے اگر اثرِ نقش حاصل امام راغب کے نزدیک حقیقی معنی ہوتے تو ایک مجازی معنی کا ان پر قیاس نہ ہوتا۔لفظ خاتم ، ختم سے اسم آلہ ہے اور خاتم اسم فاعل ہے خاتم کے معنی ہوں گے تاثیر کا ذریعہ یا آلہ اور خاتم کے معنی ہوں گے تاخیر کرنے والا۔مآل دونوں معنوں کا مؤثر وجود ہو گا۔جب اسے جمع کی طرف مضاف کیا جائے جیسے خاتم الاولیاء، خاتم الشعراء، خاتم الحکام وغیرہ تو معنی اس کے ہوں گے ایسا وجود جس کی تاثیر سے اولیاء یا شعراء یا حاکم وجود میں آئیں۔اس لحاظ سے خاتم النبین کے بلحاظ لغت عربی ومحاورہ زبان عربی معنی ہوں گے۔ایسا نبی جس کی مہر یعنی تاثیر سے انبیاء ظہور میں آئیں۔ایسے نبی کیلئے ضروری ہے کہ وہ مرتبہ میں تمام انبیاء سے بڑھ کر ہو۔ان معنی کو حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے آنحضرت ﷺ کی ذات میں تسلیم کر کے خاتمیت مرتبی قرار دیا ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں: عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں