اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 74
ازواج النبی 74 حضرت عائشہ 3266 " ادھر حضرت عائشہ کی سادگی اور معصومیت کا اور ہی عالم تھا۔آپ بیان فرماتی ہیں کہ میں مدینہ واپس آئی تو مجھے کچھ پتا نہیں تھا کہ کیا ریشہ دوانیاں اور الزام تراشیاں اندر اندر جاری ہیں۔اتفاق سے اسی دوران میں بیمار ہو گئی۔ایک دن قضائے حاجت کے لئے ام مسطح کے ساتھ باہر جارہی تھی کہ اچانک ام مسطح کا پاؤں پھسلا تو وہ کہہ اٹھیں مسطح ہلاک ہو ، میں نے کہا ”اپنے اس بیٹے کو کیوں برا بھلا کہتی ہو جو غزوہ بدر میں شامل ہوا تھا۔وہ بولیں آپ کو نہیں معلوم کہ وہ کیسے کیسے الزام آپ پر لگا رہا ہے ؟ تب پہلی دفعہ مجھے علم ہوا کہ ایسی باتیں ہو رہی ہیں۔آپ فرماتی ہیں کہ ان دنوں مجھے تو صرف ایک بات پریشان کرتی تھی کہ آنحضور ملی یا نیم کی طرف سے اس لطف و کرم ، التفات اور دلداری کا اظہار نہیں ہوتا تھا جو آپ پہلے کیا کرتے تھے۔بس اتنا تھا کہ آپ گھر آتے اور حال پوچھ کر چلے جاتے۔بالآخر میں بھی بیماری کے باعث آنحضور سے اجازت لے کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔اپنی والدہ سے جاکر حیرت سے پوچھا کہ امی ! لوگ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ والدہ نے ( جو اپنی معصوم بچی کے مزاج سے خوب شناسا تھیں) تسلی دی اور کہا بیٹی ! گھبراؤ نہیں جہاں ایک سے زائد بیویاں ہوں وہاں ایسی باتیں ہو ہی جاتی ہیں۔مگر اس کے باوجود حضرت عائشہ کے دل کا بوجھ ہلکا نہ ہوا۔انہوں نے پوچھا کیارسول اللہ سلیم کو بھی یہ باتیں پہنچی ہیں۔والدہ نے کہا ہاں۔اس پر حضرت عائشہ نے پوچھا اور ا با کو بھی۔انہوں نے کہا ہاں۔یہ سن کر حضرت عائشہ بیہوش ہو کر گر پڑیں۔جب ہوش میں آئیں تو شدید بخار میں مبتلا تھیں اور کپکپی طاری تھی۔فرماتی تھیں میں ساری رات روتی رہی نہ نیند آئے نہ الزام تراشی کے باعث دکھ سے میرے آنسو کھمیں۔مگر ابھی ابتلاء کے دن باقی تھے۔اس دوران نبی اکرم صلی یا تم نے اس نازک صورتحال کے بارہ میں اپنے قریبی اصحاب سے مشاورت شروع کی۔جنہوں نے حضرت عائشہ کی معصومیت و طہارت کی کھل کر گواہی دی۔حضرت اسامہ بن زید رسول اللہ علم کے گھرانہ کے فرد کی طرح تھے انہوں نے حضرت عائشہ کے بارہ میں اپنی نہایت عمدہ اور نیک رائے بیان کی۔پھر حضرت عائشہ کی اپنی خادمہ حضرت بریرہ جن کا حضرت عائشہ سے ہر وقت کا ساتھ تھا، نے کہا یارسول اللہ لی ہیں کہ تم ! میں تو اتنا جانتی ہوں کہ حضرت عائشہ آٹا گوندھ کر رکھ دیتی ہیں اور بکری آکر کھا جاتی ہے۔بس اس معمولی تساہل کے سوا آج تک کوئی عیب میں نے ان میں نہیں دیکھا۔سبحان اللہ ! اس سے بڑھ کر کسی کی پاکیزگی پر کیا گواہی ہو سکتی ہے۔خود رسول کریم ملی تم نے بھری مجلس میں اس واقعہ کے بارہ میں اپنی