اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 73
ازواج النبی 73 حضرت عائشہ حضرت صدیق اکبر کی بیٹی کو " صدیقہ " کے بلند ترین مقام پر فائز فرما دیا گیا۔اپنے خوبصورت انجام کے لحاظ سے یہ واقعہ سوء اتفاق نہیں بلکہ حسن اتفاق بن جاتا ہے۔جس میں اللہ تعالی کی کئی حکمتیں کار فرما تھیں۔ایک اہم حکمت مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے منافقوں کی ریشہ دوانیوں کا ہمیشہ کیلئے سد باب بھی تھا۔اس روح فرسا واقعہ کی کسی قدر تفصیل یہ ہے کہ غزوہ بنو مصطلق ( جسے غزوۂ مریسیع بھی کہا جاتا ہے ) میں دوبارہ حضرت عائشہ کا ہار گم ہوا۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ اس زمانہ میں سفروں میں عورتوں کو ہو دج ( ہودج ) سمیت اٹھا کر اونٹوں پر رکھ دیا جاتا تھا۔اس سفر میں فجر کے وقت جب قافلے نے کوچ کرنا تھا اس سے قبل آپ قضائے حاجت کے لئے باہر تشریف لے گئیں۔واپس آکر گلے پر جو ہاتھ پھیرا تو آپ کا ہار موجود نہیں تھا۔آپ گھبراہٹ میں واپس جاکر بار تلاش کرنے لگیں اور صبح کی روشنی ہو جانے تک ڈھونڈتی رہیں۔بار تو مل گیا لیکن آپ کی واپسی تک قافلہ روانہ ہو چکا تھا۔آپ فرماتی تھیں کہ میں سخت پریشان ہوئی جنگل میں تن تنہا کیلی وہاں آکر جو لیٹی ہوں تو آنکھ لگ گئی۔جو کسی کے بآواز بلند انا للہ پڑھنے سے کھلی۔یہ شتر سوار صحابی رسول حضرت صفوان بن معطل تھے جو آنحضور کی ہدایت کے مطابق لشکر کے پیچھے حفاظتی نقطہ نظر سے یہ جائزہ لیتے آرہے تھے کہ کوئی خطرہ تو نہیں یا قافلے کی کوئی چیز پیچھے تو نہیں رہ گئی۔اچانک ان کی نظر فرش زمین پر سوئی ہوئی حضرت عائشہ پر پڑی تو بے اختیار ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اليورَاجِعُون۔یہ سن کر حضرت عائشہ اٹھ کر بیٹھ گئیں۔وہ بیان کرتی ہیں کہ پردے کے احکامات نازل ہونے سے قبل اس صحابی رسول نے مجھے دیکھا ہوا تھا اس لئے پہچان لیا، میں نے فوراپردہ کر لیا۔حضرت عائشہ کی اپنی گواہی اس صحابی کے بارہ میں یہ ہے کہ "صفوان شریف النفس انسان تھا کہ اس نے مجھ سے کوئی بات تک نہیں کی بس اونٹ کو میرے سامنے لاکر بٹھا دیا اور مہار پکڑے رکھی اور میں اونٹ پر سوار ہو گئی " دوسری طرف جب قافلے والوں کو حضرت عائشہ کی گمشدگی کا علم ہوا تو وہ سخت پریشان ہو کر اگلے پڑاؤ پر ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔حضرت صفوان حضرت عائشہ کی سواری لیکر عین ظہر کے وقت وہاں پہنچے۔جبکہ چہ مگوئیاں شروع ہو چکی تھیں یہی وقت تھا جب منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی سلول اور اس کے فتنہ پرداز ساتھیوں کو طرح طرح کے الزام لگانے کا موقع ہاتھ آگیا۔