اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 75 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 75

ازواج النبی 75 حضرت عائشہ 3311 شہادت یوں بیان کرتے ہوئے فرمایا " دوستو ! مجھے ایسے لوگوں کے بارہ میں مشورہ دو جنہوں نے میری بیوی پر تہمت لگائی ہے۔اور خدا کی قسم آج تک میرے علم میں اپنی بیوی کی کوئی بُری بات نہیں آئی۔پھر الزام بھی انہوں نے ایسے شخص پر لگایا ہے کہ خدا کی قسم اسکی بھی کوئی برائی کبھی میرے علم میں نہیں آئی۔اور صفوان کبھی میرے گھر نہیں آیا سوائے اسکے کہ میں خود موجود ہوں، اور نہ کبھی میں کسی سفر میں گیا ہوں مگر وہ ہمیشہ میرے ساتھ شریک سفر رہا۔" حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں اُدھر میرا یہ حال تھا کہ میں اگلے دن تک روتی رہی دو راتیں اور دودن گزر گئے۔میں تھی کہ مارے غم کے روئے ہی چلی جارہی تھی۔یہاں تک میرے والدین کو یہ فکر لاحق ہوا کہ یہ رورو کر اپنی جان ہلکان کردے گی۔تیسرے دن نبی اکرم می کنیم تشریف لائے۔اور اس سارے عرصہ ابتلاء میں پہلی دفعہ آپ نے کھل کر مجھ سے بات کی۔حضور علی تم نے کمال عدل کے ساتھ حضرت عائشہ کے سامنے پوری صور تحال رکھتے ہوئے فرمایا " آپ کو پتہ ہے مدینہ کے ماحول میں کیا کیا باتیں ہو رہی ہیں۔اگر ایسی کوئی بات ہوئی ہے تو آپ خود صاف صاف بتادیں انسان سے غلطی بھی ہو سکتی ہے۔مگر اس کے بعد ا گر وہ توبہ کرلے تو اللہ تعالی معاف فرما دیتا ہے"۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ حضور کے سوال پوچھنے کے بعد میرے آنسو تھم گئے۔تب میں نے عرض کیا یار سول اللہ علی یل ام ! آپ لوگوں نے اس الزام تراشی کی باتوں کو اتنا سنا ہے کہ یہ بات آپ کے دلوں میں پختہ ہو چکی ہے اب اگر میں حق گوئی کرتے ہوئے انکار کرتی بھی ہوں تو آپ شاید ماننے کو تیار نہ ہوں۔پس میری مثال حضرت یوسف علیہ شام کے والد جیسی ہے جنہوں نے کہا تھا۔فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ( يوسف: 19) یعنی "میرے پاس سوائے صبر جمیل کے کوئی چارہ نہیں اور اللہ ہی ہے جس سے اس بارہ میں جو آپ بیان کرتے ہیں مدد مانگی جاسکتی ہے۔" اس وقت آنحضور ملی یہ تم پر وحی کی کیفیت طاری ہو گئی۔اور سرد موسم کے باوجود آپ پسینے سے شرابور ہو گئے۔جب یہ کیفیت دور ہوئی تو آنحضرت علیم نے فرمایا "عائشہ ! تمہیں مبارک ہو اللہ تعالی نے تمہاری بریت فرما دی ہے۔اس موقع پر سورہ نور کی یہ آیات اتریں جن میں ذکر ہے۔