اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 303 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 303

اولاد النبی 303 حضرت امام حسن وفات حضرت علی اور خطبہ حسن حضرت علیؓ کی شہادت کو فہ میں 27 رمضان 40ھ کو ہوئی۔بیعت لینے کے بعد حضرت حسنؓ نے تقریر کرتے ہوئے پہلے اللہ تعالی کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا: " آج کی رات 27 رمضان المبارک وہ مقدس رات ہے جس میں حضرت عیسی علیہام کی روح قبض کی گئی تھی اور اسی رات حضرت علیؓ کی روح قبض کی گئی ہے " 28 پھر انہوں نے فرمایا: "آج رات ایک ایسی ہستی کی روح قبض کی گئی ہے کہ نہ تو پہلوں میں سے کوئی اس سے سبقت لے سکے اور نہ کوئی بعد میں آنے والے اس کے مقام کو پاسکیں گے۔رسول اللہ علیم انہیں یعنی حضرت علیؓ کو اپنا علم جنگ عطا فرمایا کرتے تھے اور جب وہ لڑتے تو جبرائیل ان کے دائیں اور میکائیل ان کے بائیں ہوتے تھے اور وہ کبھی فتح کے بغیر واپس نہ لوٹے۔انہوں نے اپنے ترکہ میں سات صد در ہم کے سوا کوئی سونا یا چاندی نہیں چھوڑا۔یہ رقم بھی آپ کے مقررہ مشاہرے سے بیچ رہی تھی اور ان کا ارادہ اس سے اپنے اہل خانہ کے لیے ایک خادم خریدنے کا تھا۔" پھر فرمایا: "اے لوگو! جو مجھے جانتا ہے وہ تو مجھے پہچانتا ہی ہے اور جو نہیں جانتا وہ یاد رکھے کہ میں حسن بن علی ہوں اور نبی کا بیٹا اور وصی کا بیٹا اور بشیر و نذیر کا بیٹا اور داعی الی اللہ اور سراج منیر کا بیٹا ہوں۔میں ان اہل بیت میں سے ہوں کہ جن کے گھر میں جبرائیل کا آنا جانا تھا۔ہاں ان اہل بیت میں سے جن سے خدا نے خود اپنے ہاتھ سے ناپاکی کو دور کر کے انہیں پاک وصاف کر دیا تھا اور ان اہل بیت میں سے ہوں جن کی محبت اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان پر فرض کر دی اور اپنے نبی سے فرمایا قل لا أَسْتَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْر إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى یعنی تو کہہ دے کہ میں تم سے اس کا کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ تم آپس میں اقرباء کی سی محبت کرو۔' بیعت حضرت امام حسن 29 11 اس کے بعد حضرت امام حسن نے اپنے ساتھیوں کے اصرار پر ان سے بیعت لے لی۔حضرت حسن جانتے تھے کہ ان کی بیعت خلافت راشدہ والی بیعت نہیں ورنہ وہ از خود کبھی معزول نہ ہوتے۔دراصل انہوں نے محض قیام امن اور امت میں وحدت کی خاطر لی تھی۔انہوں نے اپنے والد کی وفات پر بیعت کا اصرار کرنے والوں سے واضح طور پر مصالحت کی پیشگی شرط طے کرتے ہوئے فرما دیا تھا کہ "خدا کی قسم! میں تمہاری