اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 304 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 304

اولاد النبی 304 حضرت امام حسن بیعت ہر گز قبول نہیں کروں گا مگر ایک شرط پر "۔لوگوں نے کہا وہ کیا شرط ہے ؟انہوں نے فرمایا کہ "میری بیعت اس شرط پر ہوگی کہ جس سے میں صلح کروں گا اس سے تم بھی صلح کرو گے اور جس سے میری جنگ ہو گی اس سے تمہاری جنگ ہو گی " گویا آپ کی بیعت علی الصلح تھی اور واقعہ یہ ہے کہ اگر اس وقت حضرت امام حسن وحدت قومی اور صلح کی خاطر بیعت نہ لیتے تو کشت و خون سے امت کا شیر ازہ پارہ پارہ ہو جاتا۔الغرض یہی بیعت صلح اسلامی علاقوں میں امن کا موجب بنی۔حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے چالیس ہزار سے زائد وہ لوگ تھے جنہوں نے ان کے حکم پر بیعت علی الموت کر کے جان قربان کر دینے کا عہد کیا تھا۔وہ حضرت علی کی وجہ سے حضرت حسنؓ سے بھی محبت رکھتے تھے۔ان چالیس ہزار نے حضرت حسن کی بھی بیعت کی جن میں اہل حجاز ، کوفہ اور عراق کے لوگ شامل تھے اور مکمل طور پر ان کے اطاعت گزار تھے۔حضرت جریر بن حازم بیان کرتے ہیں کہ اہل کوفہ نے حضرت حسنؓ کی بیعت کی اور اس کے بعد ان کے باپ سے بڑھ کر ان کے ساتھ محبت اور اطاعت کا نمونہ دکھایا۔31 اس زمانہ میں ایک موقع پر جب جبیر بن نفیر نے آپ سے عرض کیا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ آپ خلافت کے خواہاں ہیں تو آپ نے فرمایا کہ بے شک تمام عرب کے قبائل میرے ہاتھ میں ہیں۔میں جس سے صلح کروں گا ان سے ان کی صلح ہو گی اور جن سے میری جنگ ہو گی ان سے ان کی جنگ ہے مگر میں نے خدا کی رضامندی کی خاطر امارت و حکومت کو چھوڑ دیا ہے۔رسول الله صلی علی ایم کی صلح والی پیشگوئی کا پورا ہونا 33 حضرت حسن کی بیعت میں موجود صلح کی شرط سے ہی رسول اللہ علیم کی آپ کے حق میں کی گئی وہ پیشگوئی پوری ہوتی نظر آتی ہے آپ نے فرمایا تھا کہ " میرا یہ بیٹا سردار ہو گا اور دو عظیم گروہوں میں صلح کروائے گا پس حضرت حسنؓ کی بیعت کا مقصد ہی صلح اور امن کا قیام تھا جس کا آغاز میں ہی آپ نے 3411 ذکر فرما دیا تھا اور یہی دراصل الہی تقدیر تھی۔