اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 302 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 302

اولاد النبی 302 حضرت امام حسن حسن کے پاس سے گزر ہوا، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔حضرت ابو بکر نے اپنی دلی محبت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا لیا پھر فرمایا " یہ بچہ علی سے کہیں زیادہ رسول اللہ سے مشابہ ہے " اور حضرت 21 22 علی یہ سن کر مسکراتے رہے۔رسول اللہ صلی علیم کے دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمرؓ کا سلوک بھی حضرت حسنؓ کے ساتھ مشفقانہ رہا۔وہ بھی اپنے آقا ومولا کی پیروی میں حضرت حسنؓ سے نہایت محبت سے پیش آتے تھے۔انہوں نے حضرت امام حسن کے لیے پانچ ہزار درہم کا وظیفہ مقرر فرمایا۔تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی کے زمانہ میں حضرت حسنؓ کو خلیفہ وقت کی اطاعت اور اپنی عمر کے مطابق خدمت کی توفیق ملتی رہی۔اس وقت آپ نوجوان تھے۔حضرت عثمان کے زمانہ خلافت (30 ہجری) میں آپ کو طبرستان کے جہاد میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت عثمان کے آخری دور میں جب مخالفین نے فتنہ برپاکر کے ان کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو حضرت علیؓ نے اپنے دونوں جواں سال بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو خلیفہ وقت کی حفاظت کے لیے مامور فرمایا۔انہوں نے حسب توفیق خدمت انجام دی۔حضرت عثمان پر حملہ کے وقت بلوائیوں سے مقابلہ کرتے ہوئے آپ بھی زخمی ہوئے۔قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت حسنؓ کو حضرت عثمان کے گھر سے نکلتے اس حال میں دیکھا کہ وہ زخمی ہو چکے تھے۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حملہ آور خارجیوں کے بارہ میں رض 23 اعلانیہ رائے دیتے ہوئے حضرت حسنؓ نے فرمایا "میرا ان کے دین سے اور ان سے کوئی تعلق نہیں " اپنے والد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور خلافت میں آپ ان کے دست راست اور مشیر رہے۔ہمیشہ خوف خدا کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ نے رائے دی۔اسی زمانہ میں جنگ جمل کے جو حالات پیدا ہوئے حضرت حسن اپنی صلح جو طبیعت کے لحاظ سے ان کے حق میں نہ تھے۔جنگ کے بعد خود حضرت علیؓ نے بھی ان کی 26 رائے کو صائب قرار دیا۔اپنے بزرگ باپ اور خلیفہ راشد حضرت علی کے زمانہ خلافت میں بھی حضرت حسن کو خدمات کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت علیؓ نے آپ کو بعض اہم انتظامی فیصلوں کی تعمیل کے لیے اپنے نمائندے کے طور پر بھجوایا اور آپ نے خلیفہ وقت کی ہدایات کے مطابق ان کی تعمیل کروائی۔27