اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 174
ازواج النبی 174 حضرت اُم رض عَلَى اللهُ أَنْ يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عَادَيْتُمْ مِنْهُمْ مَوَدَّةً وَاللَّهُ قَدِيرٌ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ - (الممتحنه: 8) یعنی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے مسلمانو! تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو تمہارے دشمن ہیں محبت پیدا کر دے اور اللہ تعالی اس پر قادر بھی ہے اور بہت بخشنے والا اور مہر بان ہے۔اگرچہ یہ آیت بہت وسیع تر معنی اپنے اندر رکھتی ہے۔مگر اس موقع کی مناسبت سے ایک مفہوم صحابہ نے یہ بھی سمجھا کہ مشرکین کی مسلمان اولادوں کے ساتھ جو رشتے ناطے قائم ہو رہے ہیں تو بعید نہیں کہ اللہ تعالی ان لوگوں کے دلوں میں بھی اسلام کی محبت پیدا کر دے اور وہ رفتہ رفتہ اسلام کے قریب آجائیں۔ایک بڑا مقصد حضرت ام حبیبہ سے رشتہ کرنے کا یہی تھا، مکہ کا بڑا سردار ابو جہل تو بدر میں مارا گیا تھا ، جس کے بعد اس کا بیٹا عکرمہ سردار بنا اور مشرکین کے دوسرے بڑے لیڈر کے طور پر ابوسفیان سامنے آئے جو تمام اسلامی جنگوں میں لشکر کفار کی کمان کرتے ہوئے مسلمانوں کے مدمقابل آتے رہے۔بعد کے زمانہ میں واقعتہ اس مودت کے آثار نظر آتے ہیں جن کا آیت مذکورہ میں ذکر تھا۔مثلاً کفار مکہ نے جب حدیبیہ کا معاہدہ توڑا تو اس کی تجدید کروانے کے لئے مدینہ آنے والے ابو سفیان ہی تھے جن کو اپنے رشتہ مصاہرت کے باعث ہی یہ جرات ہوئی کہ وہ حالت جنگ میں امن کے ساتھ حضور علی علیم کے پاس مدینہ میں آکر بات کریں کہ اس معاہدہ کی توثیق کی جائے۔بعد میں بالآخر اسی تعلق کے نتیجہ میں فتح مکہ کے موقع پر ابوسفیان نے اسلام قبول کر لیا۔انھوں نے سردارانہ رنگ میں کسی اعزاز کے لئے بھی درخواست کی۔چنانچہ آنحضور میں ہم نے ان کی دلداری کرتے ہوئے اس موقع پر یہ اعلان بھی کروایا کہ جو ابو سفیان اور اس کے گھر میں داخل ہو جائے گا اسے امان دی جائے گی۔یہی وجہ تھی کہ ابو سفیان اور اس کے گروہ کی طرف سے فتح مکہ کے موقع پر کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔اس میں بھی رسول اللہ علی یتیم کے ساتھ ان کے رشتہ مصاہرت کو بھی ایک اہم دخل تھا۔بعض دیگر اقوام کی طرح اہل مصر میں بھی قدیم سے یہ دستور تھا کہ وہ شاہان مملکت یا والیان ریاست اور معزز مہمانوں سے پختہ تعلقات استوار کرنے کی خاطر اپنے خاندان کی معزز لڑکیوں کا رشتہ پیش کر دیتے تھے۔جیسا کہ بائبل کے مطابق فرعون مصر نے اپنی بیٹی حضرت سلیمان کو پیش کر دی تھی جس کے نتیجہ میں مصر بنی اسرائیل کے حملہ سے محفوظ ہو گیا۔0