اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 173
ازواج النبی 173 رض حضرت اُم ادنی ساخد شہ تھا بھی تو رسول اللہ علیم کی ان کے ساتھ رشتہ کی بر محل تجویز سے دور ہو گیا۔کیونکہ مسلمان رض ہونے کے بعد ہر لحاظ سے ان کی کفالت کے اصل ذمہ دار رسول اللہ صلی عید الیتیم تھے۔پس جب حضرت ام حبیبہ نے رئیس مکہ کی بیٹی ہو کر تنعم کی زندگی چھوڑتے ہوئے خدا اور اس کے رسول کی خاطر اپنے وطن اور گھر بار کو قربان کر دیا اور دیارِ غیر میں تنہا رہ گئیں تو رسول اللہ العلیم نے حضرت ام حبیبہ کی رضامندی سے انہیں اپنے عقد میں لینے کا ارادہ فرمایا۔تو اس سے بڑھ کر ان کیلئے خوشی کی خبر کیا ہو سکتی تھی۔پھر خود حضرت ام حبیبہ سے زیادہ ان کے قیام حبشہ کے نجی معاشی حالات کو کون سمجھ سکتا ہے؟ نجاشی کی خادمہ خاص کے ذریعہ رسول اللہ علیم سے عقد کا پیغام موصول ہونے پر فطری رد عمل کے طور پر انہوں نے جس خوشدلی سے رسول اللہ صلی یا کہ تم سے عقد کو ایک نعمت غیر مترقبہ سمجھتے ہوئے قبول کیا اس کا کچھ اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے تو اس خادمہ کو یہ خوشی کی خبر پہنچانے پر بے اختیار خوشی کی ڈھیروں دعائیں دیں۔پھر حالت مسافرت و غربت میں اور کچھ توفیق نہ پا کر اپنا زیور ہی اتار کر بطور انعام دے دیا۔اس سے حبشہ میں حضرت ام حبیبہ کی معاشی حالت کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔آپ کی مالی حالت اس وقت کچھ بہتر ہوئی جب نجاشی کی طرف سے آپ کو حق مہر کی ادائیگی ہو گئی تبھی تو انہوں نے بادشاہ کی خادمہ خاص ابرہہ کو یہ کہ کر دوبارہ مزید انعام دینا چاہا کہ پہلی دفعہ یہ خوشخبری پہنچانے کے وقت انہیں کچھ زیادہ انعام دینے کی مالی استطاعت نہ تھی جس کی تلافی وہ اب مزید پچاس دینار کا انعام دے کر کرنا چاہتی تھیں۔مگر بادشاہ چونکہ ان کی مالی حالت سے واقف تھا اس نے اس خادمہ کو حضرت ام حبیبہ سے کچھ بھی لینے سے منع کر دیا تھا۔رسول اللہ علیم کی طرف سے پیغام شادی ملنے پر حضرت ام حبیبہ کے خوشگوار رد عمل سے مزید اس حقیقت کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت ام حبیبہ کا ارادہ حبشہ ٹھہر نے یا والد کی طرف لوٹ کر جانے کا نہیں تھا اسی لئے ان کو اس رشتہ سے زندگی کی سب سے بڑی خوشی حاصل ہوئی جس کی اطلاع انہیں بذریعہ رؤیا پہلے سے کر دی گئی تھی۔الغرض حضرت ام حبیبہ کے اپنے بیان کردہ حالات ہی مسٹر کمین کا اعتراض جڑ سے اکھیڑنے کے لئے کافی ہیں۔آنحضرت ا یتیم کی اس شادی میں اور بھی گہری حکمتیں تھیں، جو اپنے وقت پر ظاہر ہوئیں۔حضرت رض عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے کہ سورہ ممتحنہ کی یہ آیت حضرت ام حبیبہ سے رسول اللہ علیم کی شادی کے موقع پر اتری ہے۔10