اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 175
ازواج النبی 175 رض حضرت اُم 12 صحیح مسلم کی ایک روایت کی وضاحت اور تاویل حضرت ام حبیبہ کی شادی کے بارہ میں صحیح مسلم کی ایک روایت اپنے ظاہری معنوں کے لحاظ سے محل نظر ہے جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ام حبیبہ کی شادی ابو سفیان کے اسلام لانے کے بعد ہوئی، جو تاریخی لحاظ سے قطعاً درست نہیں۔تاہم حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ حدیث کی بڑی تعظیم کرنی چاہئیے کیونکہ یہ آنحضرت لعلیم کی طرف منسوب ہے۔اور کسی اختلاف وغیرہ کی صورت میں حدیث کو ر ڈ کرنے کی بجائے اسے قبول کرنے کیلئے آپ کا فرمان ہے کہ " اس کی تاویل کرنی پڑے گی۔" اس روایت کو بھی بغیر تاویل کے قبول نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ بظاہر اس میں ایک تاریخی اختلاف پایا جانا ہے۔وہ روایت یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ابو سفیان کی طرف بہت التفات نہیں کرتے تھے۔ان کی مجلس میں بہت زیادہ اٹھنا بیٹھنا بھی نہیں تھا۔شاید اس بات کو محسوس کرتے ہوئے ابوسفیان نے مسلم کی روایت کے مطابق یہ عرض کیا کہ یا رسول الله علی تم میری تین گزارشات قبول فرمائیں۔آپ نے ان کی تالیف قلبی کی خاطر فرمایا کہ ٹھیک ہے۔تو انہوں نے عرض کیا۔ایک تو یہ کہ اپنی حسین و جمیل بیٹی ام حبیبہ کی خود آپ سے شادی کرتا ہوں (یعنی اب رضامندی دیتا ہوں)۔حضور علیم نے ان کا دل رکھتے ہوئے فرمایا " اچھا تو انہوں نے کہا۔دوسری یہ درخواست ہے آپ میرے بیٹے معاویہ کو اپنے پاس کاتب (سیکر ٹری) رکھ لیں۔آپ نے اس کا جواب بھی اثبات میں دیا۔تیسری درخواست انہوں نے یہ کی کہ مجھے اپنے کسی لشکر کا امیر مقرر کر دیں جیسے میں کفر کی حالت میں اسلام سے لڑتا رہا اب میں آپ کی نمائندگی میں مسلمانوں کی طرف سے کفار کے ساتھ جنگ کروں گا۔آپ نے فرمایا اچھا"۔مسلم کی اس روایت کے ایک راوی ابوز میں کہتے ہیں کہ اگر ابو سفیان خود نبی کریم ہم سے یہ سوال نہ کرتے تو شاید آپ از خودان باتوں کی ضرورت نہ سمجھتے مگر آپ کے اخلاق کریمہ میں یہ بات تھی کہ کوئی چیز بھی آپ سے مانگی جاتی تو آپ ہاں میں ہی جواب فرماتے تھے۔چنانچہ آپ نے ابوسفیان کو حاکم بھی مقرر فرمایا اور ان کے بیٹے معاویہ سے کاتب (سیکرٹری) کا کام بھی لیا۔تاہم اس روایت کے پہلے حصہ کے بارہ میں بعض اہل علم نے بجاطور پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ فتح مکہ کے بعد ابو سفیان کار سول اللہ لی تم کو یہ کہنا کسے درست ہو سکتا ہے کہ میں اپنی بیٹی ام حبیبہ آپ کو بیاہ دوں حالانکہ اس سے ڈیڑھ سال پہلے ان کا نکاح حبشہ میں ہو چکا تھا۔