اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 150 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 150

ازواج النبی 150 حضرت زینب بنت جحش دیگر بیویوں سے حسن سلوک کے بارہ میں حضرت عائشہ نے بھی خوب دل کھول کر تعریف کی ہے۔حالانکہ رسول اللہ علیم کی زندگی میں حضرت عائشہ اور حضرت زینب کے درمیان آنحضور طی نیم کی شفقتوں کا زیادہ مورد بننے کے لئے باہم ایک مقابلہ بھی ہوتا تھا۔پھر بھی حضرت عائشہ نے ایک موقع پر فرمایا کہ ” واقعہ افک میں جب مجھ پر الزام لگایا گیا، تو حضرت زینب کی بہن حمنہ بھی اس میں شریک ہو گئیں، مگر جہاں تک حضرت زینب کی اپنی ذات کا تعلق ہے ان سے جب آنحضرت علی کریم نے پوچھا کہ اس حوالہ سے آپ کی حضرت عائشہ کے بارہ میں کیا رائے ہے ؟ تو جو خوبصورت جواب انہوں نے دیاوہ ان کی سچائی اور راست بازی اور وسیع النظری پر دلیل ہے۔کہنے لگیں کہ یارسول اللہ علیم ! میں نے تو کبھی اپنی آنکھوں اور کانوں سے کوئی ایسی بات دیکھی نہ سنی۔اور خدا کی قسم ! میں نے عائشہ سے سوائے خیر اور بھلائی کے کبھی کچھ نہیں دیکھا۔حضرت عائشہ کو ان کی اس حق گوئی کی بڑی قدر تھی اور وہ حضرت زینب کی تعریف کیا کرتی تھیں جبکہ ان کی بہن شاید بزعم خویش حضرت زینب ہی کی غیرت کی خاطر حضرت عائشہ کے بارہ میں مخالفانہ رائے رکھتی تھیں۔اس موقع پر بھی حضرت زینب نے جادہ اعتدال اور سچائی کا دامن نہیں چھوڑا۔حضرت عائشہ خود فرمایا کرتی تھیں کہ آنحضرت سلم کی ازواج مطہرات میں سے زینب وہ تھیں جو میرے ساتھ مقابلہ کیا کرتی تھیں۔مگر خدا کی قسم ! کہ میں نے زینب سے بہتر کوئی اور عورت نہیں دیکھی جو اتنی متقی ، پارسا اور سچی ہو۔اتنی زیادہ صلہ رحمی کرنے والی اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کرنے والی ہو۔اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنے والی اور صدقہ دینے والی ہو۔وہ اپنی محنت کی کمائی سے اللہ کی راہ میں اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے صدقہ دیا کرتی تھیں۔اطاعت شعاری 29 28 حضرت زینب بنت جحش کی سیرت میں اطاعت رسول کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔آنحضرت علی ہم نے جن پرانی رسموں کا خاتمہ کیا ان میں عربوں کا کسی کی وفات پر بین کرنا اور سوگ وغیرہ بھی شامل تھا۔حضور نے ان بد رسوم سے منع کیا۔حضرت زینب کا اس بارہ میں نہایت پاک نمونہ تھا۔چنانچہ جب ان کے حقیقی بھائی کی وفات ہوئی تو آپ نے تیسرے دن خوشبو منگوا کر استعمال کی اور چہرے پر پاؤڈر وغیر ہ استعمال کر کے فرمانے لگیں کہ مجھے اس عمر میں بننے سنورنے کی کوئی حاجت یا ضرورت تو نہیں مگر آج میں اپنے آقا و مولا حضرت محمد