اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 149 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 149

ازواج النبی 149 حضرت زینب بنت جحش که حضرت زینب بنت جحش سمجھیں کہ ساری ازواج کا حصہ تقسیم کرنے کے لئے میرے پاس بھجوایا ہے۔بڑی سادگی سے فرمانے لگیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت عمرؓ کو بخشش عطا فرمائے۔ساری بیویوں کا مال تقسیم کے لئے مجھے بھجوانے سے بہتر تھا کہ وہ کسی اور بیوی کو بھجواتے جو زیادہ بہتر رنگ میں اسے تقسیم کرتیں۔جب بتایا گیا کہ یہ تو صرف آپ کے لئے ہے تو فرمایا کہ سبحان اللہ ، اتنازیادہ مال میرے لئے بھجوادیا ہے۔پھر آپ نے اسے کھولنا بھی پسند نہیں فرمایا اور وہ درہم و دینار گھر کے کسی کونے میں پھینکوا کر اوپر کپڑا ڈال دیا۔اور وہ خادمہ جو وہ مال لے کر آئی تھیں ان سے فرمایا کہ اس میں ہاتھ ڈال کر جتنا ہاتھ میں آتا ہے نکال لو۔پھر وہ بعض ایسے مستحقين کو بھجوایا جو یتیم بچے تھے اور ان سے آپ کا رحمی رشتہ بھی تھا۔پھر مسلسل ایک کے بعد دوسرے گھر میں بھجواتی رہیں۔یہاں تک کہ جب تھوڑا سا بچ گیا تو تقسیم کرنے والی خاتون برزہ بنت رافع نے کہا "اے ام المومنین ! اب تو بہت تھوڑا سا مال رہ گیا ہے۔اس مال میں آپ کا بھی حق تھا اور آپ نے تو سارے کا سارا تقسیم کر دیا۔اس پر فرمانے لگیں! کہ اچھا جو باقی رہ گیا ہے وہ سارا تمہارا ہے۔برزہ کہتی ہیں کہ میں نے اسے نکال کر شمار کیا تو صرف پچاسی درہم باقی بچے تھے وہ بھی حضرت زینب نے مجھے عطا کر دیئے۔پھر حضرت زینب دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کر کہنے لگیں کہ اے اللہ ! اس سال کے بعد میں یہ مال لینا نہیں چاہتی۔گویا انہیں یہ گوارانہ تھا کہ اتنامال ان کے گھر میں آئے اور پھر اس سے اگلے ہی سال حضرت زینب کی وفات ہو گئی اور وہ اپنے مولی کے حضور حاضر ہو گئیں۔26 25 حضرت عائشہ کا خراج تحسین آپ کی وفات پر حضرت عائشہ نے کیا خوبصورت خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے فرمایا کہ آج ایک ایسی ہستی ہم سے جدا ہوگئی جو بہت ہی تعریفوں کے لائق تھی۔جو غریبوں کو اور مستحقین کو بہت ہی فائدہ پہنچانے والی تھیں، یعنی حضرت زینب۔آج ان کی وفات سے واقعہ بیو گان اور یتیموں کو ایک دھچکا لگا ہے اور ان کو ان کی وفات کا صدمہ ہوا ہے۔یہ آپ ہی تھیں جو غریبوں کا خیال رکھتیں اور بیوگان کے حقوق ادا کرنے والی تھیں۔اللہ تعالی کی ہزاروں ہزار رحمتیں آپ پر ہوں۔27 اخلاق فاضلہ حضرت زینب بنت جحش نہایت اعلیٰ اخلاق فاضلہ کی مالک تھیں۔آپ کی سچائی ، دیانت ، صلہ رحمی اور