اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 151 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 151

ازواج النبی 151 حضرت زینب بنت جحش کے ایک حکم کی تعمیل کی خاطر ایسا کر رہی ہوں چونکہ میں نے آپ کو ایک دفعہ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا تھا۔آپ نے فرمایا کہ تین دن سے زیادہ کسی بھی میت پر سوگ نہ کیا جائے۔سوائے اپنے خاوند کے کہ جس کے لئے بیوہ کو چار ماہ اور دس دن جو عدت کا زمانہ سوگ میں گزارنا ہوتا ہے۔اس لئے آج اگرچہ میرا بہت ہی پیارا اور عزیز بھائی فوت ہوا ہے۔میں حضور کے اس حکم کے مطابق تیسرے دن کے بعد اپنا سوگ ختم کرتی ہوں۔یہ حضرت زینب کا ہی اطاعت اور وفا شعاری کا ایک اظہار ہے۔روایات احادیث 30 حضرت زینب بنت جحش سے کئی احادیث بھی مروی ہیں۔آپ بیان فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت میرے گھر میں تشریف لائے۔آپ کچھ گھبرائے ہوئے تھے، معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضور میں تم کو وحی الہی کے ذریعے عرب کے مستقبل سے متعلق اطلاع دی گئی تھی۔آپ نے فرمایا کہ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرِّ قَدِ اقترب عربوں کے لئے ہلاکت ہے اس شر اور مصیبت کی وجہ سے جو بہت قریب آگیا ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ آج یا جوج ماجوج کے فتنہ میں سے اتنے سے معمولی سوراخ کے برابر فتنہ ظاہر ہوا ہے۔آپ نے انگشت شہادت اور انگوٹھے کو ملا کر سوراخ کی مقدار بیان کی اور فرمایا کہ ابھی تو بہت سے فتنے ظاہر ہوں گے اور بہت ہلاکتیں ہوں گی۔حضرت زینب بنت جحش نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی نیم ! ہمارے اندر نیک لوگ موجود ہونگے اس کے باوجود پھر بھی یہ تباہی اور ہلاکت ہم پر آنے والی ہے۔حضور نے فرمایا کہ جب پلیدی اور برائی بڑھ جائے گی تو اللہ تعالی کی یہ تقدیر پوری ہو کر رہے گی۔وفات 32 حضرت زینب بنت جحش کا انتقال حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں 20ھ میں ہوا۔آپ کی عمر ترین 53 برس تھی۔حضرت عمرؓ کی یہ بڑی خواہش تھی کہ اتنی بلند پایہ بزرگ اور ام المومنین کی تدفین کے موقع پر ان کی قبر میں وہ خود داخل ہوں۔انہوں نے ازواج مطہرات کو پیغام بھجوا کر پوچھا کہ ان کی قبر میں داخل ہونے کے لئے کون زیادہ مستحق ہے۔ازواج نے پیغام بھیجا کہ جو ان کی زندگی میں ان کے گھر میں داخل ہو سکتا تھا وہ آج ان کی قبر میں بھی داخل ہو سکتا ہے۔چنانچہ حضرت عمر خود ان کی قبر میں اترے۔اور بہت اعزاز واحترام کے ساتھ ان کی تدفین کروائی۔پہلے آپ نے یہ اعلان کروایا کہ ان کے جنازے کے ساتھ