آغاز رسالت — Page 17
16 وَتَحْمِلُ الكَلَ وَتَكْسِبُ المَعْدُومَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَ تُعِيْنُ عَلَى نواب الحق (بخاری کتاب بدء الوحی) - نہیں نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔اللہ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔بلکہ آپ خوش ہوں۔خدا کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔آپ رشتے داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں۔ہر سچی بات کی تصدیق کرتے ہیں بے سہارا لوگوں کے بوجھ کو ہلکا کرتے ہیں۔نادار لوگوں کو کہا کہ دیتے ہیں۔وہ اعلیٰ اخلاق جو دنیا سے مٹ چکے ہیں ان کو اپنے اندر جمع کیا ہے ہمیشہ مہمان نوازی کرتے ہیں۔جو لوگ ایسے مصائب میں مبتلا ہوں جن میں ان کی شرارت کا دخل نہ ہو بلکہ حوادث زمانہ سے ان کو تکلیف پہنچی ہو۔آپ اُن کی مدد کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو تکلیف میں نہیں ڈالے گا۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی جن خوبیوں سے آپ کی قدر دان تھیں سب کا ذکر کمر کے تسلی دی کہ جس شخص میں یہ خوبیاں ہوں۔اللہ تعالیٰ اس کا ساتھ ضرور دے گا پھر مزید نیستی کے لئے اور حوصلہ بڑھانے کے لئے آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ورقہ بن نوفل مذہبی علوم سے واقف تھے۔توریت اور انجیل کے مترجم تھے۔الہی کلام کے انداز کو خوب سمجھتے تھے۔اگر چہ ضعیف ہو چکے تھے۔بینائی بھی باقی نہ تھی تاہم وہ وقت کی اداؤں کو پہچانتے تھے کہ عظیم الشان موعود بنی کے آنے کا وقت ہو چکا ہے۔آپ کی زبانِ مبارک سے سارا ماجرا سن کر کہا۔" یہ تو وہی پیغام ہے جو حضرت موسیٰ کو ملا تھا۔کاش میں اس وقت (یعنی آپ کے نبی بننے کے وقت جوان ہوتا۔کاش میں اُس وقت زندہ