آغاز رسالت — Page 16
19 کا اظہار کیا۔اے ابوالقاسم آپ کہاں تھے قسم ہے خدا کی میں نے آپ کی تلاش میں آدمی بھیجے یہاں تک کہ وہ مکہ کی بلندیوں سے ہو کہ واپس بھی آگئے۔آپ نے بے چینی سے فرمایا۔نَقِلُونى، نمّلُونى مجھے کپڑا اوڑھا دو۔مجھے کپڑا اوڑھا دو۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کی حالت دیکھی تو جلدی سے کپڑا اوڑھا دیا اور پاس بیٹھ گئیں۔تھوڑی دیر کے بعد آپ نے اطمینان محسوس فرمایا۔تو فرشتے کے آنے اور آپ پر بہت عظیم ذمہ داری ڈالنے کا سارا ماجرا سنایا۔آپؐ نے فرمایا۔لَقَدْ خَشِيْتُ عَلَى نَفْسِى مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر لگنے لگا ہے۔مجھےجو پیغام دیا گیا ہے بڑا بو جھیل کام ہے۔مجھے لگتا ہے مجھے سخت محنت کرنا ہوگی۔بہت مشکل واقعات پیش آئیں گے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آپ کی سب باتیں اطمینان سے سنتیں۔اُن کو اندازہ تھا کہ اُن کا شوہر کوئی معمولی انسان نہیں۔لمحے لے کے ساتھ جو سکینت اور اطمینان اور دلی خوشی اُن کو میسر آتی تھی۔وہ ایک خدا نما تورانی ہستی سے ہی ممکن تھی۔اسی وجہ سے وہ آپ سے بے حد محبت کرتی تھیں۔بیوی سے زیادہ کسی کو کون سمجھ سکتا ہے اور وہ تو مکہ کی عقلمند ترین خاتون شمار ہوتی تھیں۔بڑے سکون سے بڑی محبت سے اور بڑے مان سے آپ نے کہا۔كَلاَ وَ اللَّهِ مَا يُخْزِيْكَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ۔-