آغاز رسالت

by Other Authors

Page 15 of 23

آغاز رسالت — Page 15

۱۵ مِنْ عَلَى اِقْرَ أَوَرَبُّكَ الأكرمُ الَّذِى عَلَّمَ بالقلم لا عَلَمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُه پڑھ لینی منہ سے بول یا لوگوں تک پہنچا اپنے رب کا نام جس نے پیدا کیا۔پیدا کیا اس نے انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے۔ہاں پڑھ تیرا رب بہت عزت اور شان والا ہے۔جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔سکھایا اس نے انسان کو وہ کچھ جو وہ جانتا نہ تھا۔ا استفاده سیرت خاتم النبین ص ۱۸ ، بخاری کتاب بدء الوحی) آپ اس پیغام اور اس کے ساتھ عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو سمجھتے تھے۔اس لئے اپنی خاکساری کی وجہ سے خیال تھا کہ میں تو ایک عاجزہ بندہ ہوں پھر پڑھا لکھا بھی نہیں شان والے رب کا پیغام صحیح طریق پر پہنچا بھی سکوں گا یا نہیں۔اسی لئے آپ نے دو مرتبہ اپنی عاجزی کا اظہار فرمایا۔مگر جب آپ کو اندازہ ہوا کہ اللہ پاک آپ کو یہ کام سپرد فرمانا چاہتا ہے تو آپ نے اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کا تابع بنا دیا اور بڑی فرمانبرداری سے اس ذمہ داری کو قبول فرمائیا۔آپ جانتے تھے کہ وہ اپنے بندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا اور جس سے کام لینا ہو۔اُس میں اپنے فضل واحسان سے صلاحیت اور شجاعت پیدا فرما دیتا ہے۔تاہم اس بڑی ذمہ داری کی آپ پر گھبراہٹ تھی۔اجنبی سے ملاقات محبوب خدا کا پیغام اور ذمہ داری سب پہلی دفعہ ہوا تھا۔آپ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔آپ کو ایک طرح کا خوف محسوس ہوا۔آپ جلدی جلدی گھر تشریف لائے۔حضرت خدیجہ نے آپ کو دیکھا تو معمول سے قدرے تاخیر سے آنے پر گھبراہٹ