عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 66

66 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول بے شک تو حید پر ایمان کا دعوی کرتے رہیں تا ہم تو حید کے محض زبانی اقرار کے باوجود ان کے اعمال مشرکوں والے ہی ہیں۔پس سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآنی پیش گوئی پھر کس انداز میں پوری ہوئی؟ زیر نظر آیت پر گہرا غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جس غضب الہی کا ذکر ہے وہ ایک عظیم عالمی فساد کی صورت میں ظاہر ہونے والا ہے۔اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ مسیحی عقائد کے اندرہی دراصل ان کا باہمی انشقاق مضمر ہے۔پس جس سزا کا ذکر ہے وہ ان کے جرم کے عین مطابق ہے۔تثلیث خدائے واحد و یگانہ کی ذات کو تقسیم کرنے کی ایک کوشش ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے خود اندرونی طور پر بٹے ہوئے ہیں۔چنانچہ استعماری اقوام کی یہ حکمت عملی کہ لوگوں کو تقسیم کر کے ان پر حکومت کرو“ بھی اسی کا ایک شاخسانہ ہے۔یورپ میں علم کی نشاۃ ثانیہ عقل اور منطق کے استعمال اور سچائی کی تلاش کا زمانہ ہے۔یہی وہ دور ہے جس میں مغرب کی عیسائی اقوام میں زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی اور عیسائی عقائد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا کہ یہ عقل انسانی سے متصادم ہیں۔دانشوروں کی اس بغاوت پر چرچ نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور عقائد پر اعتراضات کرنے والے لوگوں کی سخت مذمت کی گئی اور انہیں سزائیں دی گئیں۔جب سائنس دانوں اور فلسفیوں کو چرچ کی طرف سے اپنے سوالات کا جواب نہ مل سکا تو وہ مذہب سے ہی برگشتہ ہو گئے۔دراصل چرچ کے چنگل سے نکلتے نکلتے خدا سے بھی دور ہوتے چلے گئے۔یہاں سے سائنسی طرزفکر اور مذہبی عقائد کی راہیں بالکل جدا ہو گئیں۔جب تک عیسائی دنیا جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی رہی تب تک کوئی مسئلہ کھڑا نہ ہوا تھا۔لیکن جیسے ہی مغرب کے افق پر عقل تحقیق اور علم کا سورج طلوع ہوا تو انہوں نے ہر چیز کو ایک بالکل نئے تناظر میں دیکھنا شروع کر دیا۔انہیں اس بات کا علم ہو چکا تھا کہ نہ تو زمین ساکن ہے اور نہ ہی یسوع مسیح کی جائے پیدائش کے احترام میں سورج زمین کا طواف کر رہا ہے۔سائنسی انقلابات نے کائنات کا تصور کلیۂ تبدیل کر کے رکھ دیا۔ان پر کھل گیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے نہ کہ سورج زمین کے گرد اور یسوع مسیح کی جائے پیدائش ہونے کی وجہ سے زمین سورج کیلئے قطعاً قابل تعظیم نہیں۔جب عیسائی دانشوروں نے حقائق فطرت کو بے نقاب کرنا شروع کیا تو اس خوف سے کہ اسے کہیں چرچ کی طاقت کے خلاف ایک کھلی کھلی بغاوت ہی نہ سمجھ لیا جائے ، انہوں نے اپنے شبہات کو مخفی رکھا۔چنانچہ لا ادریت پیدا ہوئی جس سے آگے دہریت پر بنی فلسفوں اور اشتراکیت نے جنم لیا۔تثلیث کے عقیدے پر باہمی اختلاف سے عیسائی دنیا دو مخالف گروہوں میں یوں تقسیم ہوئی کہ ان کے درمیان خلیج بڑھتی ہی چلی گئی اور ایک دوسرے کے خلاف رویے بھی سخت تر ہوتے چلے گئے۔