عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 67
عدل سے انحراف 67 دنیا کو دوحصوں میں منقسم قرار دینے پر شاید کسی کو حیرانی ہورہی ہولیکن حقیقت یہ ہے کہ محض مغرب کی عیسائی دنیا دو گروہوں میں بٹ گئی تھی۔لیکن جہاں تک انسانی طاقت کا تعلق ہے تو اس کا مرکز متحدہ عیسائی طاقتیں اور کمیونسٹ بلاک ہی تھا جو کچھ عرصہ پہلے عیسائیت کا ہی ایک مضبوط گڑھ تھا۔اس تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ گزشتہ دونوں عالمی جنگوں نے انسان کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی رویوں پر نظریات ،عقائد اور فلسفوں کے اثرات کو کافی حد تک واضح کر دیا ہے۔عدل کی خلاف ورزیوں پر متنبہ کرنے والا نظام: اب ہم ایک ایسے نظام کا مطالعہ کرتے ہیں جو انسانی جسم کے اندر نظامِ عدل کی خلاف ورزیوں پر متنبہ کرتا ہے۔بیماری کے معمولی آثار بھی ظاہر ہوں تو سارا انسانی جسم بے چین ہو جاتا ہے۔سطحی نظر سے دیکھیں تو یہ ایک غیر ضروری مداخلت معلوم ہوتی ہے۔لیکن درحقیقت زندگی کی حفاظت اور بقا کیلئے ایسا ہونا انتہائی ضروری ہے۔درد کا احساس ہی ہر نوع حیات میں موجود اس دفاعی نظام کو بیدار کرتا ہے جو عام حالات میں فعال نہیں ہوتا۔درد اور بے چینی نہ صرف عمومی طور پر سارے جسم کو بیماری سے آگاہ کرتے ہیں بلکہ یہ دفاعی نظام کی معین رہنمائی کرتے ہیں کہ جسم میں خطرہ کہاں ہے؟ خطرے اور اس کے مقام کی تعیین کے بعد دفاعی نظام خطرے کی جگہ اور نوعیت کے مطابق اس سے نبرد آزما ہونے کیلئے مناسب اقدامات کرتا ہے۔زندگی کا دفاعی نظام صرف درد کی وجہ سے بیدار نہیں ہوتا بلکہ ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے ، جوکسی بھی فرد کی زندگی کو در پیش ہے، بیدار ہو جاتا ہے اور پھر ہر نوع حیات میں یہ نظام ایک ردعمل دکھاتا ہے جو کہ بہت بار یک تفاصیل پر مبنی ہوتا ہے۔اس سے دفاعی وسائل جسم میں نہ صرف پیدا ہوتے ہیں بلکہ انہیں معین مقام تک پہنچایا جاتا ہے جہاں ان کی ضرورت ہوتی ہے۔انسان کو دیگر جانوروں سے ممتاز کرنے والا ایک ایسا خاص نظام عطا کیا گیا ہے جو نہ صرف جسم پر بیماری کے حملے سے متنبہ کرتا ہے بلکہ انسان کے اخلاقی شعور کو اپنی ذات سے متعلق اور خدا تعالیٰ سے متعلق بھی بیدار کرتا ہے اور انسان اور خدا تعالیٰ کے مابین تعلق کے حوالے سے بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔اسی قسم کا ایک تنبیہ اور دفاع کا نظام انسان کے مذہبی اور اخلاقی اعمال کے تعلق میں کارفرما ہے۔قرآن کریم مذہب کی تاریخ کو انبیا کے ساتھ ان کے مخالفین کے سلوک کے حوالے سے پیش کرتا ہے اور مختلف ادوار میں انسان کے اخلاقی اور معاشرتی زوال کا مفصل تجزیہ کرتا ہے۔جب کسی قوم کو آنے والی تباہی سے بچانے کیلئے اس میں انبیا کو مبعوث کیا گیا تو اکثر و بیشتر ان کی شدید