عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 65

عدل سے انحراف عقیدہ تثلیث : 65 خدا تعالیٰ کے ساتھ بے انصافی کی ایک نہایت موزوں مثال تثلیث کا عقیدہ ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: تَكَادُ السَّمُوتُ يَتَفَطَرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَذَا اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا (مریم 91:19و92) ترجمہ: قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ لرزتے ہوئے گر پڑیں کہ انہوں نے رحمن کے لئے بیٹے کا دعویٰ کیا ہے۔انسانوں کے مابین جنگ اور بدامنی کی وجوہات پر غور کرنے سے بالآخر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم کا مذکورہ بالا بیان یقیناً یہاں اطلاق پاتا ہے، جیسا کہ ابھی ہم ثابت کریں گے۔عیسائیت کی تاریخ سے ہمیں براہ راست ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ عیسائی اقوام اپنے باطل عقائد کی وجہ سے غضب الہی کا مورد ٹھہری ہوں۔بلکہ اس کے برعکس وہ تو دنیوی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مورد دکھائی دیتی ہیں۔ان اقوام نے ساری دنیا پر حکومت کی ہے اور آج بھی غیر عیسائی اقوام کے بالمقابل طاقت کا توازن انہی کے حق میں ہے یہاں تک کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ساری دنیا کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں ہے۔اگر چہ گزشتہ چند دہائیوں سے تیسری دنیا کے ممالک بھی کسی قدر آزادانہ طور پر ترقی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔لیکن اسے کوئی بڑی تبدیلی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ آج بھی عیسائی اقوام کی برتری اسی طرح برقرار ہے جسے دیکھ کر انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اگر واقعہ ایسا ہی ہے تو پھر قرآن کریم کے مذکورہ بالا بیان کے کیا معنی ہوئے؟ عیسائیت کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آغاز میں عیسائیت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے عقیدہ پر ہی قائم تھی۔تثلیث اور خدا کے بیٹے کا تصور بہت بعد میں پولوس کے ذریعہ عیسائیت کے عقائد میں داخل ہوا۔اس وقت سے لے کر آج تک اس معمہ کی بہت سی مخصوص تو جیہات پیش کی جاتی رہی ہیں اور عیسائیت کے مختلف فرقے اس بارہ میں مختلف نظریات اپناتے رہے ہیں۔چوتھی صدی عیسوی کے آغاز سے لے کر اب تک بڑے بڑے عیسائی فرقے اس مسئلہ پر باہم برسر پیکار دکھائی دیتے ہیں۔تثلیث کے متعلق ہر فرقہ درست نظریہ پر قائم رہنے کا دعویدار ہے۔اس کے باوجود سبھی خدائے واحد پر ایمان کا دعوی بھی رکھتے ہیں۔بالفاظ دیگر ان کا خدائے واحد اپنی ذات میں گویا منقسم تھا ان کی اس طرز فکر کی وجہ سے قرآن کریم نے انہیں مشرک نہیں کہا بلکہ انہیں یہ حق دیا ہے کہ وہ