عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 64
64 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول 7- عدل سے انحراف اگر کوئی شخص کھلے ذہن کے ساتھ برائیوں کی اصل جڑ تلاش کرنے کی کوشش کرے تو وہ ہمیشہ اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ تمام معاشرتی، سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی برائیوں کی جڑ دراصل عدل کا فقدان ہی ہے۔پس عدل و انصاف قائم کئے بغیر دنیا امن و آشتی کا گہوارہ بن ہی نہیں سکتی کیونکہ جب نا انصافی اور جبر و استبداد کا دور دورہ ہو جائے تو بدی جنم لیا کرتی ہے اور دنیا تباہی کے رستہ پر چل نکلتی ہے۔اگر انسان حقوق اللہ کی ادائیگی میں عدل سے کام نہیں لیتا تو یہ امر بعید از امکان ہے کہ وہ بنی نوع انسان کے ساتھ عدل کر سکے۔یاد رکھنا چاہئے کہ عدل کے تقاضوں کو صحیح معنوں میں پورا نہ کرنے کے بدنتائج ضرور بھگتنا پڑتے ہیں۔اس قسم کی سزا کا تعلق خدا تعالیٰ کے غضب سے نہیں جو گویا آسمان سے اترتا ہے بلکہ یہ تو قوانین قدرت کی خلاف ورزی کا فطری نتیجہ ہے کیونکہ کوئی بھی قوانین قدرت سے بالا نہیں۔یہاں بھی رحمت خداوندی ، مغفرت اور احسان کارفرما ہے جس کی وجہ سے انسان کو اس کے ہر گناہ کی سزا نہیں دی جاتی لیکن جب وہ مقررہ حدود سے تجاوز کر جاتا ہے تو احسان کی ڈھال واپس لے لی جاتی ہے اور پھر سزا کے عمل میں کوئی روک نہیں رہتی۔قرآن کریم اس مضمون کو یوں بیان کرتا ہے: وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُوا عَنْ كَثِيرٍ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ فِي الْأَرْضِ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ وَلِي وَلَا نَصِيرٍ (الشورى 32,31:42) ترجمہ: اور تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس سبب سے ہے جو تمہارے اپنے ہاتھوں نے کمایا۔جبکہ وہ بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے۔اور تم زمین میں عاجز کرنے والے نہیں بن سکتے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی سر پرست اور مددگار نہیں۔بالفاظ دیگر انسان اپنے لئے خود ہی مصیبتیں کھڑی کر لیتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس کے اکثر گناہ معاف فرما کر اسے تباہی اور بربادی سے بچاتا ہے۔چنانچہ جنگوں کی تاریخ پر غور کرنے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نقض امن کی بنیادی وجہ ہمیشہ قوانین عدل کی خلاف ورزی ہوا کرتی ہے۔