عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 47

انسانی جسم کا اندرونی توازن -6- انسانی جسم کا اندرونی توازن اچھے اور برے کی اندرونی کسوٹی: 47 قبل ازیں ہم سورۃ الشمس کی آیت نمبر 9 کے ایک معنی کی تفصیل بیان کر چکے ہیں اب ہم اسی کے ایک اور پہلو کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو یہ صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ وہ بیماری اور صحت نیز تعمیری اور تخریبی عمل میں تمیز کر سکتا ہے۔تمیز کرنے کا یہ نظام انسان کے کسی شعوری علم کے بغیر ایک خود کار طریق پر جاری ہے۔اس کا اطلاق نہ صرف بنی نوع انسان بلکہ تمام انواع حیات پر ہوتا ہے۔ہرادنی اور اعلیٰ نوع حیات کو ایسا اندرونی نظام ودیعت کیا گیا ہے جو اُ سے آگاہ کرتا ہے کہ اس کے وجود کی چھوٹی سی دنیا میں اس کیلئے کیا اچھا ہے اور کیا برا۔یہاں تک کہ امیبا کی صحت اور بیماری کی بھی اپنی حدود ہیں کہ اسے کس چیز سے پر ہیز کرنی چاہئے اور کس چیز کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے۔لیکن انسان میں یہ صلاحیت اتنی ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہے کہ اس کا سرسری سا مطالعہ ہی حیران و ششدر کر دیتا ہے۔انسانی زندگی کی ہر سطح پر چناؤ اور رد کر دینے کا عمل بڑی جامعیت کے ساتھ جاری وساری ہے۔مندرجہ ذیل چھوٹی سی مثال اس کی بخوبی وضاحت کرتی ہے۔بھوک انسان کو اس بات سے آگاہ کرتی ہے کہ اسے توانائی کی ضرورت ہے۔چنانچہ دیکھنے، سونگھنے، چھونے ، چکھنے حتی کہ بعض اوقات سننے کی جس بھی ایک ایسے آدمی کیلئے جسے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے فوراً اپنا کام شروع کر دیتی ہے کہ اس کیلئے کیا اچھا ہے اور کیا برا۔چنانچہ جیسے ہی انسان کسی غذا کا کوئی لقمہ چبانا شروع کرتا ہے تو ذائقہ اور حرارت کی حسیات، دانت، لعاب دہن کے غدود، جبڑوں کی ہڈیاں اور عضلات غرضیکہ تمام اعضاء باہم پوری ہم آہنگی کے ساتھ اپنا اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔آخر کار جب کوئی چیز نگل لی جاتی ہے تو چناؤ کا عمل خوراک کو اُس کے سادہ تر اجزا میں توڑنے اور غیر ضروری فاضل مادوں سے پاک کرنے کے سلسلہ میں اور بھی گہرا اور اہم ہو جاتا ہے۔چنانچہ انسان کو بیکٹیریا اور وائرس کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے ہر قسم کا ضروری انتظام کیا گیا ہے۔ان مراحل کے بعد یہ نیم ہضم شدہ غذا ایسے کیمیائی اجزا میں تبدیل کر دی جاتی ہے جو بآسانی جزو بدن بن سکتے ہیں اور نسبتا زیادہ پیچیدہ نامیاتی مرکبات میں ڈھل سکتے ہیں۔یہ چند ایک مثالیں ہیں جو اختصار کے ساتھ نہایت سادہ رنگ میں بیان کی گئی ہیں کہ کس طرح