عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 46

46 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول زندگی کے بلند تر مقامات کا حصول ممکن نہیں۔عدل سے احسان نے جنم لینا تھا جس نے پھر بالآخر اس اعلیٰ درجے کے تعلق میں بدل جانا تھا جسے قرآن کریم نے ایتا ء ذی القربیٰ کا نام دیا ہے۔یعنی غیروں کے ساتھ اپنے قریبی رشتے داروں جیسا سلوک۔مختصر یہ کہ عدل کا اعمال اور کردار کے شعوری احساس کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے۔یہ لفظ انسانی کردار کو بیان کرنے کیلئے استعمال کیا گیا ہے جبکہ انسانی اعمال شعور ہی سے جنم لیتے ہیں اور ان میں صراط مستقیم سے انحراف کا رجحان نہیں پایا جاتا۔یہیں سے زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔