عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 48

48 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول اللہ تعالیٰ نے وہ سارا نظام عطا فرمایا ہوا ہے جو خوراک کو محفوظ طور پر ہضم کرنے کیلئے ضروری ہے۔اگر خدانخواستہ توازن بگڑ جائے تو زندگی اور صحت کا معیار بری طرح متاثر ہوگا۔یہ توازن اور تناسب اتنا معین اور کامل ہے کہ اس میں معمولی سا بگاڑ بھی زندگی کیلئے موت کا پیغام ثابت ہوسکتا ہے۔سورۃ الشمس کی آیت نمبر 9 میں استعمال ہونے والے لفظ ”فجور سے ایسے تغیرات مراد لینا جو کہ صحت کیلئے خطرناک ہوں بالکل صحیح ہو گا جبکہ اسی آیت کا لفظ ” تقوی“ اس صلاحیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے جس کے ذریعے انسان ایسے خطرات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو بالآخر بیماری یا موت پر منتج ہوتے ہیں۔پس انسانی جسم کے تعلق میں سورۃ الشمس کی یہ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ علم الاعضاء تشریح الابدان ، اعصابی نظام، جگر کا نظام، وریدی نظام، غدودوں کا نظام اور دفاعی نظام سب کو یہ علم ودیعت کیا گیا ہے کہ ان کیلئے کیا اچھا ہے اور کیا برا۔مذکورہ بالا نظاموں میں سے کسی ایک کے تفصیلی مطالعہ کو ضبط تحریر میں لانے کیلئے کئی جلدیں درکار ہوں گی پھر بھی یہ مضمون ختم نہیں ہوگا۔لیکن اسے سحر انگیز اور حیرت انگیز کہ دینا بھی تو سادہ لوحی ہی ہوگی۔انسانی زندگی کے باریک در باریک اور تہ در تہ اسرار کا مشاہدہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایس کو ونڈر لینڈ میں چھوڑ دیا جائے لیکن انسانی تخلیق کے عجائبات کے سامنے تو حیران کن اور پر اسرار کہانیاں بالکل بیچ ہیں۔ہم یہ دیکھ کر ورطہ حیرت میں ڈوب جاتے ہیں کہ جسمانی افعال کس طرح متعلقہ قرآنی بیانات کی مکمل تصدیق کرتے ہیں۔انسان میں بیماری کا رجحان اور پھر قریباً تمام بیماریوں کے خلاف اس میں دفاعی صلاحیت کا موجود ہونا ایک حیرت انگیز بات ہے یہاں تک کہ کینسر جیسا موذی مرض بھی ماہر معالجین کی کسی مداخلت کے بغیر ٹھیک ہو سکتا ہے۔طبی سائنس کی تاریخ میں کینسر کے بعض آخری درجے پر پہنچے ہوئے ایسے کیس بھی ریکارڈ ہوئے ہیں جن میں مریض مکمل شفایاب ہو گئے اور ڈاکٹر آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہوا؟ ماہرین کا سارا علم اس وقت دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے جب بستر مرگ پر پڑا ہوا ایک مریض رو بصحت ہو کر از سر نو زندگی کا آغاز کر دیتا ہے جبکہ شفا کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔سائنسدانوں کی متفقہ رائے یہ ہے کہ انسانی جسم کے دفاعی نظام کے اسرار کو ابھی تک محض سطحی طور پر ہی سمجھا جاسکا ہے پھر بھی ہم پورے وثوق سے کہ سکتے ہیں کہ ہمارے دفاعی نظام میں لامتناہی امکانات موجود ہیں۔دفاعی نظام کامل ہونے کے باوجود انسان کو ابدیت عطا نہیں کرسکتا۔کیونکہ ہر نظام کے ساتھ