عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 43
انسانی ارتقا کا اگلا قدم 43 اتنے جینیاتی مراحل سے گزرا ہے اور اس نے اتنی مختلف شکلیں اختیار کی ہیں اور اس قدر مختلف نامیاتی مرکبات کے تناسب سے اس کی تشکیل ہوئی ہے۔یہ سب کچھ ارتقا کی تاریخ کا آئینہ دار ہے۔سورۃ الانفطار کی مذکورہ بالا آیات ہرگز اُس زمانے کے انسان کے ذہن کی اختراع نہیں ہو سکتیں۔یہ آیات انسان کو یاد دلاتی ہیں کہ وہ اپنی پیدائش سے پہلے مختلف شکلوں اور صورتوں سے گزرا ہے۔ان ان گنت تبدیلیوں کیلئے نامیاتی مرکبات کے مختلف تناسب کی ضرورت تھی۔انسان یہ سوچ کر حیران رہ جاتا ہے کہ ابتدائی زمانے کے لوگوں نے ان آیات سے کیا پیغام اخذ کیا ہوگا، جو در اصل آنے والے زمانوں سے تعلق رکھتی تھیں؟ سورۃ القیامۃ میں یہ مرکزی خیال اور بھی واضح دکھائی دیتا ہے کہ: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ الْقَى مَعَاذِيْرَهُ (القیامة 16،15:75) ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے نفس پر بہت بصیرت رکھنے والا ہے۔اگر چہ وہ اپنے بڑے بڑے عذر پیش کرے۔اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اعتذار کے پردہ میں چھپ سکتا ہے۔تاہم اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنی نیت کے پس پردہ محرکات کو جان سکے۔خود کو جان سکنے کی اسی صلاحیت کا قرآن کریم نے سورۃ الشمس کی درج ذیل آیت میں دوبارہ ذکر فرمایا ہے: فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوبَهَا (الشمس 9:91) ترجمہ: پس اس کی بے اعتدالیوں اور اس کی پر ہیز گاریوں ( کی تمیز کرنے کی صلاحیت ) کو اس کی فطرت میں ودیعت کیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ذی روح کی گھٹی میں ڈال دیا ہے کہ اس کیلئے کیا اچھا ہے اور کیا برا۔نیز یہ کہ اسے کیا کرنا چاہئے اور کس کام سے رُک جانا چاہئے۔پس اپنی فطرت کی آواز کوسن کر انسان اچھے اور برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ نے فطرت انسانی میں وجدان کی ایسی صلاحیت رکھ دی ہے جو پیش آمدہ خطرات کے متعلق انتباہ کرتی رہتی ہے جو اس کے فیصلوں کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔اسی طرح سے متنبہ کرنے کی ایسی صلاحیت عطا کی گئی ہے جو ہمیشہ صحیح اور غلط میں تمیز کر کے اس بات کو عملاً ناممکن بنا دیتی ہے کہ وہ نا دانستہ طور پر کوئی غلط کام کرے۔جب ان آیات کو ملا کر پڑھا جائے تو علم کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔سائنسدانوں نے ان علوم کا