عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 44
44 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن تحقیق و جستجو میں وہ جتنا آگے بڑھتے ہیں یہ مضامین اسی قدر وسعت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔در حقیقت ان وسعتوں کی کوئی حد بست ہی نہیں ہے۔زندگی کی خصوصیات کو اپنے اندر سموئے ہوئے خلیات کے جامع مطالعہ کیلئے سائنسدانوں کی کئی نسلیں درکار ہوں گی لیکن پھر بھی یہ مضمون ختم نہیں ہوگا۔زندگی کے بنیادی اجزائے ترکیبی: جب ہم انسانی جسم اور اس کے اجزائے ترکیبی پر غور کرتے ہیں تو اپنے اجسام میں ایک نہایت پیچیدہ نظام سرگرم عمل پا کر حیران رہ جاتے ہیں۔انسانی جسم اربوں خلیات سے تعمیر ہوا ہے۔ہر خلیہ دوسرے سے مختلف اور مخصوص شکل وصورت کا حامل ہے جو اس کے کام کی نوعیت کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔یہ خلیات اپنے حجم اور شکل وصورت کے اعتبار سے کئی قسم کے ہوتے ہیں اور ان کے مختلف حصے ہوتے ہیں۔ہر حصہ جسم میں ایک مخصوص کام سرانجام دیتا ہے۔لیکن نیوکلیس ان میں ایک مرکزی کردار ادا کرتا ہے، جس کا کام بہت دقیق اور پیچیدہ ہوتا ہے۔نیوکلیس خلیہ کے اندر ایک جھلی میں لپٹا ہوتا ہے۔اس جھلی کے اندر کی طرف نیوکلیو پلازم (Neucleoplasm) ہوتا ہے جس میں آر۔این۔اے اور ڈی۔این۔اے بکثرت موجود ہوتا ہے۔یہ وہ مادہ ہے جو کہ خلیہ کی تقسیم کے عمل میں نہایت بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ایک صحت مند خلیہ کا انحصار اس کے نیوکلیس پر ہوتا ہے۔نشو ونما، میٹا بولزم یعنی خلیہ کے اندر جاری عمل تعمیر وتخریب، افزائش نسل اور خصوصیات کی منتقلی کیلئے یہ ایک ضروری ذریعہ ہے۔مزید وضاحت کیلئے ہم یوں کہ سکتے ہیں کہ انسانی جسم میں پائے جانے والے اربوں خلیات میں سے صرف ایک خلئے کے اندر اس سے کہیں زیادہ معلومات ذخیرہ کی گئی ہیں جو انسان کے بنائے ہوئے کسی جدید ترین کمپیوٹر کی یادداشت میں محفوظ ہو سکتی ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اربوں خلیات میں بالکل ایک جیسی معلومات ذخیرہ کی گئی ہیں اور ان میں سے ہر خلیہ جسمانی نظام کو چلانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔جسم کے اندر عین صیح وقت اور درست سمت میں خلیہ کے اندر ایک عمل واقع ہوتا ہے جو ان افعال کیلئے محرک کی حیثیت رکھتا ہے جن کی خاطر اس خلئے کو تخلیق کیا گیا ہے۔اسی طرح آر۔این۔اے کے ذریعے جو کہ پیغامبر خلیات ہیں معلومات کو جسم کے دیگر متعلقہ حصوں تک پہنچایا جاتا ہے۔یہ سارا کام بغیر کسی تصادم کے کامل ہم آہنگی کے ساتھ سرانجام پاتا ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے سائنسدانوں کے خورد بین کی مدد سے انسانی خلئے