عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 42

42 انسان بطور عالم صغیر : عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول -5 انسانی ارتقا کا اگلا قدم انسان تخلیق کا عظیم ترین معجزہ ہے۔اس کے وجود میں کھربوں سالوں پر محیط ارتقائے حیات سمویا ہوا ہے۔یہ کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ہر انسان کے اندر ارتقائے حیات کی تاریخ کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔انسان، عالم صغیر کی حیثیت رکھتا ہے۔در حقیقت یہ زمان و مکان کے کامل امتزاج کی ایک زندہ علامت ہے۔لیکن اس موضوع پر مزید روشنی ڈالنے سے پہلے اس حیرت انگیز حقیقت کا ذکر ضروری ہے کہ قرآن کریم انسانی تخلیق کے تمام مراحل اور بنیادی خدوخال کا پوری طرح احاطہ کرتا ہے اور کوئی بھی قابل ذکر مرحلہ ایسا نہیں جو اس نے بیان نہ کیا ہو۔تمام مخلوقات میں سے قرآن کریم نے صرف انسانی تخلیق کو کامل عدل کے کردار کی وضاحت کیلئے سب سے بڑی علامت کے طور پر بیان فرمایا ہے۔چنانچہ فرمایا: يَايُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبَّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَونَكَ فَعَدَ لَكَ فِي أَي صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ (الانفطار 7:82 تا 9) ترجمہ: اے انسان تجھے اپنے رب کریم کے بارہ میں کس بات نے دھو کے میں ڈالا ؟ وہ جس نے تجھے پیدا کیا۔پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا۔پھر تجھے اعتدال بخشا۔جس صورت میں بھی چاہا تجھے ترکیب دی۔آئیے اب اس آیت پر قدرے تفصیل سے دوبارہ نظر ڈالتے ہیں۔اللہ تعالیٰ گویا انسان سے یوں مخاطب ہے کہ اے انسان! کس چیز کے برتے پر تو اپنے خالق و مالک خدا کے سامنے اکثر رہا ہے؟ اگر تو کائنات کی عظمت اور اس کے اسرار کو نہیں سمجھ سکتا تو کم از کم اپنی ذات میں ڈوب کر اس کامل توازن کو دیکھ جس کے ساتھ خدا نے تجھے پیدا کیا ہے یعنی اس کا ئنات پر غور کر جو تیرے اندر ہے۔کیا پھر بھی تو خدا کے وجود کا انکار کرنے کی جرات کر سکتا ہے؟ ہم پھر کہتے ہیں کہ وہی خدا ہے جس نے تجھے پیدا کیا، شکل وصورت دی اور حسین تناسب عطا فر مایا۔اگر چہ یہ آیات چودہ سو سال پہلے نازل ہوئیں لیکن یوں لگتا ہے کہ یہ آج کے اس جدید سائنسی دور میں نازل ہوئی ہیں۔قرآن کریم کے نزول کے وقت اس بات کا کوئی تصور بھی نہیں تھا کہ انسان