عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 41

عالم حيوانات 41 گئے ہیں۔یہاں احساس اور شعور ا کٹھے کار فرما ہیں۔ان کا باہمی فرق محض ان کے متعلقہ دائرہ کار سے ہی تعلق نہیں رکھتا بلکہ احساس اور شعور کے معیار بھی الگ الگ ہیں۔انسانوں کے ہاں کوئی احساس بھی مہم نہیں ہوتا جیسے کسی کیڑے کو کوئی درد ہوتا ہے یا پھر غذامل جانے کی خوشی ہوتی ہے بلکہ یہ کہیں زیادہ واضح اور شدید نوعیت کا ہوتا ہے۔اس کا انسانی جسم کے مختلف افعال اور یادداشت سے بڑا گہرا اور پیچیدہ تعلق ہے۔اس سے یہ امر بہت حد تک واضح ہو جاتا ہے کہ ان دونوں استعدادوں نے ہر دائرے میں انسانی طرز عمل کی نوک پلک سنوارنے میں بہت اہم اور پیچیدہ کردار ادا کیا ہے اور ہر پہلو سے اس پر انمٹ نقوش ثبت کئے ہیں۔جب انسانوں میں احساس اور شعور ، عدل و احسان اور ایتا عذی القربی کے ساتھ مل کر کار فرما ہوتا ہے تو نئے خیالات، نظریات، تصورات اور عقائد جنم لیتے ہیں اور انسانی زندگی کی تعمیر کرنے والے سب عوامل کو وسعت عطا کرتے ہیں۔مختصر یہ کہ انسان کو اس کی آخری منزل پر پہنچانے میں عدل، احسان اور ایتآء ذی القربیٰ نے ہمیشہ تعمیری یا تخریبی اعتبار سے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔