عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 17
تخليق كائنات ج لَوْ كَانَ فِيْهِمَا أَلِهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَ تَا فَسَبِّحْنَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ۔(الانبیاء 23:21) 17 ترجمہ: اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا کوئی معبود ہوتے تو دونوں تباہ ہو جاتے۔پس پاک ہے اللہ عرش کا رب اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔اس وسیع کائنات میں دوئی کا کوئی چھوٹا سا نشان بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ایک دائرہ میں تمام اشیاء باہمی طور پر بھی اور کائنات کے دیگر دائروں کے ساتھ بھی کامل ہم آہنگی کے ساتھ چلتی چلی جارہی ہیں۔کائنات میں ہر جگہ پائی جانے والی اس کامل ہم آہنگی کے بغیر ہم ارتقا کے اس دائمی سفر کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ایک سے زیادہ خالق ہونے کی صورت میں ایک سے زائد قوانین اس کائنات کے حاکم ہونے چاہئیں تھے اور لازم تھا کہ ہر ایک خدا اپنے قوانین کے مطابق کائنات تخلیق کرتا جس کا لازمی نتیجہ بے ترتیبی اور ابتری کی صورت میں نکلتا اور تمام کا ئنات ٹکڑے ٹکڑے ہو کر رہ جاتی۔یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ کائنات میں موجود ہر ایک چیز مسلسل تغیر پذیر ہے۔اگر یہ تبدیلی بہتری کی جانب ہو تو ہم اسے ارتقا کہتے ہیں۔اکثر و بیشتر کسی چیز کی حالت بہتر ہونے سے مراد اس کے اجزائے ترکیبی کی از سر نو تنظیم و ترتیب ہوتی ہے جس سے اس کے معیار اور حسن و جمال میں اضافہ ہوتا ہے۔مختصر یہ کہ بے ترتیبی اور بدنظمی بدصورتی ہے اور ترتیب و تنظیم خوبصورتی۔ارتقا کی بعینہ یہی نوعیت ہے جس کا ہم زمین پر مشاہدہ کرتے ہیں۔زندگی بتدریج پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی چلی جاتی ہے۔چنانچہ ارتقا کے ہر اگلے مرحلہ پر اس کے اجزائے ترکیبی زیادہ منظم اور مرتب دکھائی دیتے ہیں۔اس تناظر میں ہم مختصر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ارتقا در اصل بدنظمی سے نظم وضبط اور کم تر نظم وضبط سے ہمیشہ بہتر نظم و ضبط کی طرف جاری سفر ہے۔در حقیقت یہی چیز زندگی اور موت کے مابین ما بہ الامتیاز ہے۔اگر چہ یہ ایک مشکل سائنسی مضمون ہے لیکن اردو کے ایک شاعر بی نارائن چکبست نے اسے بڑے خوبصورت اور سادہ الفاظ میں یوں بیان کیا ہے: زندگی کیا ہے عناصر کا ظہور ترتیب موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا یعنی زندگی عناصر کی تنظیم کے سوا کچھ بھی نہیں اور موت انہی عناصر کی بے ترتیبی کا نام ہے۔جب مادہ ایک مسلسل کیمیاوی عمل میں سے گزرتا ہے تو اس سے نئے اور زیادہ پیچیدہ سالماتی مرکبات پیدا ہوتے ہیں جو بالآخر اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں جہاں بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ