عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 18
18 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول نامیاتی مرکبات کی مدد سے زندگی کی پہلی اینٹ کی تشکیل ممکن ہو جاتی ہے جسے DNA کہا جاتا ہے۔زندگی کے اجزائے ترکیبی کی نئی سے نئی طرز پر تنظیم سے یہ تمام اجزائے حیات نئی سے نئی شکلیں اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ عناصر اتنی خوبصورتی کے ساتھ باہم مربوط ہیں جیسے کسی زیور میں ہیرے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔جب ان عناصر میں زندگی کی آب و تاب جلوہ گر ہوتی ہے تو حیات جگمگا اٹھتی ہے۔ان عناصر کی ترتیب و تنظیم تو ڑ ڈالیں تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا، بالکل ویسے ہی جیسے ہیروں کو ان کی ابتدائی کیمیائی حالت میں لے جائیں تو محض کاربن کے کچھ ٹکڑے ہی بیچتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم یہ نتیجہ نکالنے میں بالکل حق بجانب ہے کہ اگر اس کا ئنات کے ایک سے زائد مالک ہوتے تو ان میں سے ہر کوئی اپنے مالکانہ حقوق کیلئے دوسرے سے لڑ پڑتا ، جس کے نتیجہ میں یہ کا ئنات بدنظمی اور ابتری کا شکار ہوکر درہم برہم ہو جاتی۔بالفاظ دیگر زندگی کو ہم توازن اور ہم آہنگی کا نتیجہ قرار دے سکتے ہیں جبکہ ان کی عدم موجودگی کا نتیجہ موت ہے۔پس اگر بنی نوع انسان گہرے معانی پر مشتمل اس قرآنی پیغام کو سمجھ کر اور تسلیم کر کے توحید سے وابستہ ہو جاتے تو آج دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔کشش ثقل کا عالمگیر قانون : اس دعوے کے ثبوت میں کہ تخلیق کائنات میں عدل بہت اہم کردار ادا کرتا ہے بہت سے سائنسی شواہد موجود ہیں لیکن یہاں زیر بحث امر کی وضاحت کشش ثقل کے عالمگیر قانون کے حوالے سے ہی کافی ہوگی۔اس قانون کے مطابق کا ئنات میں کوئی سے دو مادی اجسام کے مابین ایک ایسی قوت کشش پائی جاتی ہے جو ان دونوں اجسام میں پائے جانے والے مادے کے حاصل ضرب کے راست متناسب اور ان کے باہمی فاصلہ کے مربع کے بالعکس متناسب ہوتی ہے۔اسی باہمی کشش کو کششِ ثقل کہا جاتا ہے۔ان مخالف قوتوں کے مابین کامل توازن اور مساوات کے بغیر کائنات کا توازن برقرار نہیں رہ سکتا۔یہ قانون سالموں اور ابیٹوں کے عالم صغیر پر بھی اُسی طرح اطلاق پاتا ہے جس طرح عالم کبیر پر۔ہر چیز جو مدار میں گردش کر رہی ہے اس کا اپنے مدار میں رہنا دراصل مرکز مائل اور مرکز گریز قوتوں کے مابین مکمل توازن کا نتیجہ ہے۔ایسی قوتوں پر مشتمل ایک بہت پیچیدہ جال نے اجرام فلکی کو باہم مربوط کر رکھا ہے جس کے باعث کائنات کو ثبات حاصل ہے۔قرآن کریم جب اجرام فلکی کے بیضوی مداروں میں متحرک رہنے کا ذکر فرماتا ہے تو دراصل