عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 16
16 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول عالم جمادات میں تو ازین اور ترتیب کا عدل کی صورت میں کار فرما ہونا بتارہا ہے کہ یہ کہ یہ کائنات نہ صرف ایک خالق کے ہاتھ کی تخلیق ہے بلکہ وہی واحد ہستی ہے جو اس عظیم الشان کارخانہ کومسلسل قائم بھی رکھے ہوئے ہے۔اس نکتہ کو کسی آرٹسٹ کے کام کے بغور مشاہدے سے مزید کھولا جاسکتا ہے۔جس کے تیار کردہ شاہ کا ر کو دیکھ کر اس کے فن اور مہارت کی عظمت کا بآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔نظام کائنات کے گہرے مطالعہ سے اس حیرت انگیز حقیقت کا انکشاف بھی ہوتا ہے کہ لامحدود اور وسیع تر ہونے کے باوجود کائنات میں کارفرما قوانین قدرت اور ان کے تابع تخلیقی عمل کے مابین ذرہ بھر بھی تضاد دکھائی نہیں دیتا۔یہ کامل ہم آہنگی اور مطابقت لازماً ایسے خدا کا پتہ دیتی ہے جو اعلیٰ، خالق کامل اور واحد و یگانہ ہے۔تا ہم سطحی نظر سے دیکھنے والوں کو کائنات میں بظاہر تضاد اور بے ہنگم پن بھی دکھائی دیتا ہے۔یوں لگتا ہے کہ جیسے اشیاء کے مقاصد اور محرکات باہم متصادم ہیں۔لیکن کبھی ختم نہ ہونے والے اس باہمی تضاد کے پیچھے عدل کا ایک پوشیدہ ہاتھ مسلسل کارفرما ہے۔مختلف اشیاء کی باہمی ترتیب اور تناسب میں ایک انتہائی خوبصورت اور حیرت انگیز توازن رکھ دیا گیا ہے اور جب اس کا اطلاق مختلف انواع حیات کے مابین پائی جانے والی جہد للبقاء پر کیا جاتا ہے تو اسے ماحولیاتی نظام (ECOSYSTEM) کا نام دیا جاتا ہے۔تخلیق کے اس وسیع منصوبہ میں حیوانی زندگی کا بھی ایک مخصوص دائرہ کار یا مقصد ہے۔ساری کائنات میں کارفرما قوانین کو جو ایک دوسرے سے مکمل ہم آہنگ ہیں نسبتاً چھوٹے دائروں میں بھی جاری کیا گیا ہے جو نظام زندگی کو چلاتے ہیں۔در حقیقت کائنات کا ہر ایک جزو اپنے دائرہ میں ان معین قوانین کے تابع چل رہا ہے جو بطور خاص اسی دائرہ کیلئے وضع کئے گئے تھے۔کیمیا، فزکس اور نیوکلیس میں جاری قوانین اور ان کا باہمی عمل عالم حیوانات کی تخلیق کا باعث ہے۔حیوانات کے وجود میں آتے ہی ایک نیا ضابطہ حیات پیدا ہوتا ہے اور پھر تمام انواع حیات کیلئے ان کے اپنے اپنے دائروں کے ساتھ مخصوص قوانین دکھائی دیتے ہیں جن کے تابع حیات رواں دواں ہوتی ہے۔اگر ہمارا یہ مطالعہ درست ہے تو پھر ہم لازماً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ تخلیق کے ہر مرحلہ پر جیسے جیسے اس کا قدم ترقی کی جانب بڑھا ہے اگر خالق اول کے علاوہ کوئی اور بیرونی طاقت بھی اس میں دخل انداز ہوتی تو یقیناً ایک ہنگامہ اور فساد برپا ہو جاتا جس سے ساری کائنات میں ایک زلزلہ آ جاتا۔یہ توازن اگر ایک مرتبہ بگڑ جائے تو کبھی بھی دوبارہ قائم یا بحال نہیں کیا جاسکتا۔کائنات میں پائی جانے والی کامل ہم آہنگی اور ترتیب کے متعلق قرآن کریم کا بعینہ یہی بیان ہے۔چنانچہ مندرجہ ذیل آیت اسی مضمون کو بڑی فصاحت و بلاغت سے بیان کر رہی ہے:۔