عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 15

تخليق كائنات 2 - تخلیق کائنات 15 اب ہم یہ جائزہ لیں گے کہ کائنات کے اجزائے ترکیبی کس طرح ان قوانین کے تحت کام کر رہے ہیں جو مندرجہ ذیل آیات میں بیان کئے گئے ہیں: وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ (الرحمن 8:55 (10) ترجمہ: اور آسمان کی کیا ہی شان ہے ! اس نے اسے رفعت بخشی اور نمونہ عدل بنایا تا کہ تم میزان میں تجاوز نہ کرو اور وزن کو انصاف کے ساتھ قائم کرو اور تول میں کوئی کمی نہ کرو۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ آسمانوں کی بلندی کے ساتھ ساتھ وسعت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اُس نے ان کو بہت بلند پیدا کیا ہے۔یہ دونوں اوصاف یعنی بلندی اور وسعت کلیۂ توازن پر منحصر ہیں۔چنانچہ یہ وسیع تر کائنات نہ صرف یہ کہ عدل کے اصول پر بنائی گئی ہے بلکہ عدل اس میں ایک کسوٹی کے طور پر بھی کارفرما ہے۔میزان کے لفظ میں اصول و ضوابط کے ساتھ ساتھ وہ آلات بھی شامل ہیں جن سے عدل کو ماپا جا سکتا ہے۔اس کائنات میں آدمی کیلئے یہ پیغام مضمر ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے تخلیق کردہ آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے، کا بنظر غائر جائزہ لے تو اس میں مکمل تو ازن ، کامل ہم آہنگی اور مطابقت پائے گا نیز اللہ تعالیٰ کے اس وسیع تخلیقی منصوبہ پر غور کرنے سے ہی انسان عدل کے حقیقی معانی سمجھ سکتا ہے۔تمام کا ئنات ایک ہی اصول کے تابع ہے اور اس کے اجزائے ترکیبی باہم متحد ہو کر اس کی بناوٹ اور حرکت میں ایک شاندار ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔کائنات میں موجود مختلف چیزوں کا توازن اگر ذرا سا بھی بگڑ جائے تو تمام نظام کائنات درہم برہم ہو کر رہ جائے گا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے نظام کا ئنات کو چلانے والے تمام قوانین انسانی دسترس سے دور صرف اور صرف اپنے ہی تصرف میں رکھے ہوئے ہیں۔تخلیق کائنات میں ہر جگہ یہی بالا قانون کارفرما دکھائی دیتا ہے جس کے تحت فطری طور پر تناسب اور توازن قائم رہتا ہے۔نظام کائنات میں جہاں کہیں بھی عدل مطلق نا پید ہوگا وہاں شدید بدنظمی پیدا ہو جائے گی۔