عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 250

250 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه چهارم نہیں دیتے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل سے رحمت کو کھینچ نکالا ہے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔(71) آنحضرت ﷺ کی ایک نواسی نزع کی حالت میں تھی آپ کی بیٹی نے آپ کو بلوا بھیجا۔حضور جب وہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے بچی کو آپ کی گود میں دے دیا بچی کو رک رک کر سانس آرہا تھا۔حضور کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔حضرت سعد بن عبادہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بھی ہمراہ تھے۔انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہم یہ کیا دیکھ رہے ہیں آپ کیوں رو رہے ہیں، یہ کیا ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : هذه رحمة وضعها الله في قلوبِ من شاءَ مِن عباده ولا يرحم اللهُ مِن عباده إلا الرُّحَمَاء۔کہ دیکھو جس کو تم بظاہر کمزوری کے آنسو سمجھتے ہو یہ اللہ کی رحمت ہے جس کے دل کو وہ پسند فرماتا ہے اسے رحمت سے بھر دیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں میں نے ہیں سے ان پر رحم فرماتا ہے جو دوسروں پر رحم فرمایا کرتے ہیں۔ایک موقعہ پر آنحضور نے حضرت امامہ بنت ابی العاص کو اپنے دوش مبارک پر اٹھایا ہوا تھا۔پھر آپ نماز پڑھنے لگے رکوع میں جاتے تھے تو انہیں اتار دیتے تھے اور جب کھڑے ہوتے تھے تو (73) (72) پھر اٹھا لیتے تھے۔(3) آجکل کے فقہ کے طالبعلموں کو یہ فقہ پڑھائی جاتی ہے کہ نماز میں اگر کوئی آدمی ایسی حرکت کرے کہ توجہ دوسری طرف ہو جائے یا کسی چیز کو اٹھائے اور رکھے اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔اسی قسم کا ایک جاہل طالب علم مدرسہ میں بیٹھا ہوا استاد سے حدیث پڑھ رہا تھا۔جب یہ حدیث آئی تو اس نے کہا او ہو۔گویا رسول کریم ﷺ کی نماز ٹوٹ گئی۔لیکن یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ اسے عام دستور نہیں بنایا جاسکتا۔اگر سب لوگ نماز کے دوران بچوں کو کندھوں پر اٹھانے لگے تو وہ رسول کریم ﷺ کی طرح ہر گز یہ صلاحیت نہیں رکھتے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ کی طرح نماز میں اپنی توجہ برقرار رکھ سکیں۔کوئی اپنے بچہ کو بھی اسکی مرضی کے بغیر وقف نہیں کر سکتا: اولاد کے حقوق کے سلسلہ میں قرآن کریم اس مضمون کو آگے بڑھاتا ہے اور فرماتا ہے کہ انسان اپنے بچوں کو بھی خدا کی خاطر قربان نہیں کر سکتا جبتک پہلے ان کی رضا حاصل نہ کر لی جائے۔