عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 251
رشتہ داروں کے متعلق عدل و احسان کی تعلیم چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ الشَّعْرَ قَالَ يُيُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي (الصافات 103:37) 251 اذْبَحُكَ فَانْظُرُ مَا ذَا تَرَى قَالَ يَابَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصُّبِرِينَ فرمایا کہ جب اسمعیل اس عمر کو پہنچا کہ حضرت ابراہیم کے ساتھ دوڑتا پھرے اور روزمرہ کے کاموں میں شریک ہو سکے اس وقت حضرت ابراہیم نے اپنی ایک رویا کے پیش نظر اسے بلا کر فرمایا کہ اے میرے پیارے بیٹے ! میں نے ایک رویا میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔تو اس کا کیا مطلب سمجھتا ہے؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ اے میرے پیارے ابا ! جو اللہ آپ کو حکم دیتا ہے، وہی کر گزریں، انشاء اللہ مجھے آپ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔یادر ہے کہ حضرت ابراہیم کو یہ خواب حضرت اسمعیل کے بہت بچپن کے زمانہ میں آئی تھی اور اسی کے نتیجہ میں آپ حضرت ہاجرہ اور ان کو لے کر خانہ کعبہ کے کھنڈرات کے پاس ایک بے آب و گیاہ وادی میں اکیلا چھوڑ گئے تھے اور یہی اسکی تعبیر تھی جو آپ نے عملاً پوری کر دی تھی۔اسکے باوجود آپکے دل میں خلش رہی کہ کہیں مراد ظاہری طور پر ذبح کرنا نہ ہو۔لیکن ہرگز یہ جائز نہیں سمجھا کہ چھوٹے بچے کو ذبح کر دیں۔ہاں جب وہ اپنی سوچ کے لحاظ سے پختہ ہو گیا تب اس سے پوچھا۔گویا بچوں کو خدا کی راہ میں قربان کرنا تقاضا کرتا ہے کہ جب تک وہ بالغ ہوکر خود ماں باپ کے اس اقدام پر رضا مندی ظاہر نہ کریں، انکو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے ارادہ پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا۔یہی وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ میں بچوں کے وقف نو کے تعلق میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ بیشک پیدائش سے پہلے یا بعد میں والدین بچے کو وقف کریں مگر وہ وقف آخری صورت میں اسی وقت منظور ہوگا جب بچہ بالغ ہو کر اپنی رضامندی سے ماں باپ کے وقف کی تائید کرے گا۔تکریم اولاد کی حسین تعلیم : آنحضرت ﷺ اولاد کے ساتھ سلوک کے معاملہ میں یہ تعلیم دیا کرتے تھے کہ اولاد سے ہمیشہ عزت سے پیش آؤ۔یہ وہ تعلیم ہے جس کو آج دنیا میں نافذ کرنے کی بڑی ضرورت ہے۔آج دنیا میں جو یہ خرابی نظر آتی ہے کہ اولاد بڑی ہو کر ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتی اور بالکل ان