عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 249 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 249

رشتہ داروں کے متعلق عدل و احسان کی تعلیم 249 ہے کہ اگر تمہاری امت اپنی اولاد پر بھی خرچ کرے گی تو خدا اس کو ویسی ہی جزا دے گا جیسی غریبوں پر صدقہ کرنے کے نتیجہ میں اس کو جز املتی ہے۔باریک انسانی محرکات پر حضور اکرم ﷺ کی نظر تھی اور جو جواب دیتے تھے بظاہر آپ سرسری طور پر دیکھیں تو اس موقع سے یوں تعلق نہیں نظر آئے گا مگر ایک لفظ بھی غیر متعلق نہیں تھا۔ہر وہ لفظ آپکے کلام میں پایا جاتا تھا جس کی ضرورت تھی۔راوی بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ نے یہ نصیحت فرمائی تو ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اگر تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی غرض سے اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ بھی ڈالے تو اس کا بھی ثواب ملے گا۔اب ہم پہلی روایت کی طرف جو حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت ہے، واپس لوٹتے ہیں۔وہ کہتے ہیں اس نصیحت کے بعد میں نے حسرت کے رنگ میں عرض کیا کہ شاید میری یہ بیماری جان لیوا ثابت ہو اور میں یہیں مکہ میں دفن کیا جاؤں اور اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ واپس مدینہ نہ جاسکوں اور اس طرح میری ہجرت نامکمل رہ جائے اور اس کا پورا ثواب حاصل نہ کرسکوں۔اس پر آپ نے فرمایا ثواب میں تم ہر گز پیچھے نہیں رہو گے جو کام خدا تعالیٰ کی خاطر کرو گے اس کی وجہ سے جز اضرور حاصل کرو گے اور شاید ظاہری لحاظ سے بھی تم پیچھے نہ رہو۔دراصل یہ دعا تھی چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا میں پھر اچھا ہو گیا اور مجھے واپس مدینہ جانے کی توفیق ملی اور پھر آنحضرت ﷺ کے بعد بھی ایک لمبا عرصہ زندہ رہنے کی توفیق ملی اور یہ روایت بیان کرنے کی توفیق ملی۔آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ قادسیہ اور ایران کی فتوحات کا سہرا بھی حضرت سعد بن ابی وقاص کے سر پر ہے۔(70) عدل کے بعد اولاد کے ساتھ احسان کی تعلیم : آنحضرت ﷺ نے اولاد کے حقوق میں سے کوئی پہلو بھی باقی نہیں چھوڑا اور صرف عدل نہیں بلکہ احسان کی بھی تعلیم عطا فرمائی ہے اور ہمیں سکھایا ہے کہ کس طرح بچوں سے پیار کیا جاتا ہے۔آجکل کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ تو عام تہذیب کی باتیں ہیں اور ہر آدمی کو پتہ ہے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ آج بھی ترقی یافتہ معاشروں میں بہت سے بچے ماں باپ کے پیار سے محروم رہتے ہیں۔ایک بھاری تعداد بچوں کی ماں باپ سے پیار کی پیاسی رہ کر کئی قسم کی ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ماں باپ کو اپنی ذاتی عیش و عشرت کی پڑی رہتی ہے اور بچوں کا حق ادا نہیں کرتے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ تو بچوں کو بوسہ دیتے ہیں ( گویا یہ مردوں کی صفت کے خلاف ہے ) ہم تو انہیں بوسہ