عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 248
248 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربى - حصه چهارم حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک غریب عورت میرے پاس آئی اس نے اپنی دو بچیاں اٹھا رکھی تھیں میں نے اس کو تین کھجور میں دیں اس نے دونوں بیٹیوں کو ایک ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال لی لیکن یہ کھجور بھی اس کی بیٹیوں نے اس سے مانگ لی۔اس پر اس نے وہ کھجور منہ سے نکالی اور اس کے دو برابر کے حصے کئے اور دونوں بیٹیوں میں تقسیم کر دئیے۔اب یہ کام ماں ہی کر سکتی ہے اور طبعی فطرت کے نتیجہ میں کرتی ہے کسی نیکی کی خاطر نہیں۔وہ اپنے دل سے مجبور تھی آپ بھوکی رہی۔حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں جب میں نے اس بات کا آنحضرت ﷺ سے (68) ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اس فعل کی وجہ سے اللہ تعالی نے اس پر جنت واجب کر دی ہے۔(3 کیسی عظیم تعلیم ہے ! حسن و احسان کی تعلیم عدل کے ساتھ اس طرح ملا دی ہے کہ وہ ایک دوسرے میں جذب ہوگئی ہیں۔تمہیں خدا اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ خدا کی خاطر ایسے کام کرو جس سے اولاد سے نا انصافی ہوتی ہو۔حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایات ہے کہ میں حجتہ الوداع کے سال مکہ میں بیمار پڑ گیا۔آنحضرت ﷺ میری عیادت کیلئے تشریف لائے میں نے حضور کی خدمت میں اپنی بیماری کی شدت کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ میرے پاس کافی مال ہے اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی قریبی وارث نہیں، کیا میں اپنی جائیداد کا تہائی حصہ صدقہ کردوں؟ حضرت سعد بن ابی وقاص صاحب علم تھے اور صاحب تقویٰ تھے۔انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ اپنی ساری جائیداد خدا کیلئے دے دوں۔انہوں نے سوچا 2/3 تو لڑکے کا حق ہوتا ہے ایک تہائی لڑکی کا ہوتا ہے، مجھے چونکہ لڑکا نہیں ملا اس لئے میں بیٹی کو اس کے حق سے محروم کئے بغیر وہ جو بیٹا ہونا تھا تو اس کا حق خدا کو دے دیتا ہوں۔آپ نے فرمایا نہیں۔پھر میں نے عرض کیا کہ تیسرے حصے کی اجازت دی جائے۔آپ نے فرمایا ہاں تیسرے حصہ کی اجازت ہے اور اصل میں تو یہ تیسرا حصہ بھی زیادہ ہی ہے۔یہ بھی فرمایا کہ اپنے وارثوں کو خوش حال اور فارغ البال چھوڑ نا اس بات سے بہتر ہے کہ وہ تنگدست ہوں اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں تم جو بھی خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر خرچ کرو گے وہ اپنے رشتہ دار وارثوں پر ہو یا دوسرے غرباء اور مساکین پر اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا ثواب ضرور دے گا۔(89) نحضرت ﷺ ایسے پر حکمت کلام کرنے والے تھے کہ احادیث کا مطالعہ سرسری نظر سے نہیں کرنا چاہئے بلکہ گہرے مطالب کے حصول کیلئے آپ کے کلام میں غوطے مارنے چاہیں۔ایک دفعہ رسول اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: میرے خدا نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا (69)**