عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 247

رشتہ داروں کے متعلق عدل و احسان کی تعلیم 247 محرک ہے۔ناروے کے متعلق تو ماہرین کی یہ پیش گوئی ہے کہ اگر نارویجین قوم میں بچوں کی پیدائش میں کمی کا یہی حال رہا تو اگلے پندرہ ہیں سال یا پچاس سال میں ناروے پر باہر کی آئی ہوئی مہاجر قو میں قابض ہو جائیں گی اور ناروے کے اصل باشندے اقلیت بن جائیں گے۔اولاد کے مابین عدل کی تعلیم : اولاد کے حقوق میں یہ مضمون بھی بیان فرما دیا کہ تمہیں اپنی اولاد میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے کی اجازت نہیں ہے۔جب اللہ کہتا ہے کہ انسان اپنی جائیداد اور اولا د وغیرہ کا مالک ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ تمام تر اختیار رکھتے ہیں۔قرآنی تعلیم کے مطابق مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔انسانی ملکیت اس کی عطا کردہ ہے۔قرآن کریم کا فلسفہ ملکیت جگہ جگہ اسی رنگ میں پیش فرمایا گیا ہے کہ انسان کو جو ملکیت ملتی ہے وہ عارضی ہے اور خدا ما لک کل ہے اس لئے انسان اپنی ہر ملکیت کا جوابدہ ہے۔اسی طرح اسکے اپنے بچے بھی اسکے پاس امانت ہیں اور ان سے عدل کے خلاف غیر متوازن سلوک نہیں کیا جاسکتا۔آنحضرت اللہ کے متعلق حضرت نعمان بن بشیر روایت کرتے ہیں کہ ان کے والدین ان کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اس بچے کو ایک غلام تحفہ دیا ہے۔حضور نے فرمایا کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو ایسا تحفہ دیا ہے۔میرے ابا نے عرض کیا کہ نہیں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا یہ تحفہ واپس لے لو۔اس پر میرے ابا نے وہ تحفہ مجھ سے واپس لے لیا۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اولاد سے انصاف اور مساوات کا سلوک کرو۔اس کے باپ کو حضور نے سمجھاتے ہوئے مزید فرمایا کہ اپنے اس بیٹے کو یہ تحفہ دینے کا ذکر کرتے ہوئے گویا تم نے مجھے اس پر گواہ بنا دیا اور فرمایا ” ہرگز مجھے اس ہبہ میں گواہ بنانے کی جرات نہ کرو کیونکہ میں ظلم کا گواہ نہیں بن سکتا ، (67) اولاد سے عدل کی جزا : پھر اولاد کے حقوق کو قائم کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے اولاد کے حقوق ادا کرنے پر بھی جز امقرر فرما دی۔یہ بھی خدا کی ایک عجیب شان ہے انسان اپنے طبعی تقاضوں کے نتیجہ میں اپنی اولاد کیلئے کچھ کرتا ہے مگر اسلام نے اس کے ساتھ کچھ جزا بھی مقرر کر دی تا کہ کوئی ماں باپ اپنی اولاد سے غافل نہ ہوں۔